محرم الحرام میں کیا نہ کریں ؟
اس پہلے اسلامی مہینے میں جہاں بہت سارے نیک اعمال اور جائز رسمیں مسلمانوں میں رائج ہیں وہیں کچھ لوگ جہالت اور لاعلمی کی بنیاد پر اسی ماہ میں کئی خلافِ شرع کام بھی کرتے ہیں جن سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں ۔ ہر مسلمان کو ان تمام ناجائز اور خلافِ شرع کاموں سے بچنا چاہئے ۔ اس مقدس مہینے میں ہمیں جن باتوں سے پرہیز کرناچاہئے انہیں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ یوں بیان فرماتے ہیں :
تعزیہ داری کہ واقعاتِ کربلا کے سلسلہ میں طرح طرح کے ڈھانچے بناتے اور ان کو حضرتِ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضۂ پاک کی شبیہ کہتے ہیں ۔ کہیں تخت بنائے جاتے ہیں ، کہیں ضریح بنتی ہے اور علم اور شدے نکالے جاتے ہیں ، ڈھول تاشے اور قسم قسم کے باجے بجائے جاتے ہیں ، تعزیوں کا بہت دھوم دھام سے گشت ہوتا ہے ، آگے پیچھے ہونے میں جاہلیت کے سے جھگڑ ے ہوتے ہیں ، کبھی درخت کی شاخیں کاٹی جاتی ہیں ، کہیں چبوترے کھودوائے جاتے ہیں ، تعزیوں سے منتیں مانی جاتی ہیں ، سونے چاندی کے علم چڑ ھائے جاتے ہیں ، ہار، پھول، ناریل چڑ ھاتے ہیں ، وہاں جوتے پہن کر جانے کو گناہ جانتے ہیں بلکہ اس شدت سے منع کرتے ہیں کہ گناہ پر بھی ایسی ممانعت نہیں کرتے ، چھتری لگانے کو بہت برا جانتے ہیں ، تعزیوں کے اندر مصنوعی قبریں بناتے ہیں ، ایک پر سبز غلاف اور دوسری پر سرخ غلاف ڈالتے ہیں ، سبز غلاف والی کو حضرتِ سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر اور سرخ غلاف والی کو حضرتِ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر یا شبیہ قبر بتاتے ہیں اور وہاں شربت مالیدہ وغیرہ پر فاتحہ دلواتے ہیں یہ تصور کر کے کہ حضرتِ امام عالی مقام کے روضہ اور مواجہہ اقدس میں فاتحہ دلا رہے ہیں ۔ پھر یہ تعزیے دسویں تاریخ مصنوعی کربلا میں لے جا کر دفن کرتے ہیں ۔ گویا یہ جنازہ تھا جسے دفن کر آئے پھر تیجہ، دسواں ، چالیسواں سب کچھ کیا جاتا ہے اور ہر ایک خرافات پر مشتمل ہوتا ہے ۔
حضرتِ قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مہندی نکالتے ہیں گویا ان کی شادی ہو رہی ہے اور مہندی رچائی جا ئے گی اور اسی تعزیہ داری کے سلسلہ میں کوئی پیک بنتا ہے جس کے کمر سے گھگرو بندھے ہوتے ہیں گویا یہ حضرت امام عالی مقام کا قاصد اور ہرکارہ ہے جو یہاں سے خط لے کر ابن زیاد یا یزید کے پاس جائے گا اور وہ ہر کاروں کی طرح بھاگا پھرتا ہے ۔ کسی بچہ کو فقیر بنایا جاتا ہے ، اس کے گلے میں جھولی ڈالتے اور گھر گھر اس سے بھیک منگواتے ہیں ، کوئی سقہ بنایا جاتا ہے ، چھوٹی سی مشک اس کے کندھے سے لٹکتی ہے ، گویا یہ دریائے فرات سے پانی بھر کر لائے گا، کسی علم پر مشک لٹکتی ہے اور اس میں تیر لگا ہوتا ہے گویا یہ حضرتِ عباس علمبردار ہیں کہ فرات سے پانی لا رہے ہیں اور یزیدیوں نے مشک کو تیر سے چھید دیا ہے ، اسی قسم کی بہت سی باتیں کی جاتی ہیں ، یہ سب لغو و خرافات ہیں ، ان سے ہرگز سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوش نہیں ۔
یہ تم خود غور کرو کہ انہوں نے احیائے دین و سنت کے لئے یہ زبردست قربانیاں کیں اور تم نے معاذ اللہ اس کو بدعات کا ذریعہ بنا لیا۔ بعض جگہ اسی تعزیہ داری کے سلسلہ میں براق بنایا جاتا ہے جو عجب قسم کا مجسمہ ہوتا ہے کہ کچھ حصہ انسانی شکل کا ہوتا ہے اور کچھ حصہ جانور کاسا، شاید یہ حضرتِ امام عالی مقام کی سواری کے لئے ایک جانور ہو گا، کہیں دلدل بنتا ہے ، کہیں بڑ ی بڑ ی قبریں بنتی ہیں ، بعض جگہ آدمی ریچھ، بندر، لنگور بنتے ہیں اور کودتے پھرتے ہیں ، جن کو اسلام تو اسلام انسانی تہذیب بھی جائز نہیں رکھتی، ایسی بُری حرکت اسلام ہرگز جائز نہیں رکھتا۔ افسوس کہ محبت اہلبیت کرام کا دعویٰ اور ایسی بیجا حرکتیں ، یہ واقعہ تمہارے لئے نصیحتیں تھی اور تم نے اسے کھیل تماشا بنا لیا۔ اسی سلسلہ میں نوحہ و ماتم بھی ہوتا ہے اور سینہ کوبی ہوتی ہے ، اتنی زور زور سے سینہ کوٹتے ہیں کہ ورم ہو جاتا ہے ، سینہ سرخ ہوجاتا ہے بلکہ بعض جگہ زنجیروں اور چھریوں سے ماتم کرتے ہیں کہ سینے سے خون بہنے لگتا ہے ۔ تعزیوں کے پاس مرثیہ پڑ ھا جاتا ہے ، مرثیہ میں غلط واقعات نظم کئے جاتے ہیں ، اہلبیت کرام کی بے حرمتی اور بے صبری اور جزع فزع کا ذکر کیا جاتا ہے اور چوں کہ اکثر مرثیہ رافضیوں ہی کے ہیں بعض میں تبرا بھی ہوتا ہے مگر اس رد میں سُنی بھی اسے بے تکلف پڑ ھ جاتے ہیں اور انہیں اس کا خیال بھی نہیں ہوتا کہ کیا پڑ ھ رہے ہیں ، یہ سب ناجائز اور گناہ کے کام ہیں ۔
اظہارِ غم کے لئے سر کے بال بکھیرتے ہیں ، کپڑ ے پھاڑ تے اور سر پر خاک ڈالتے اور بھوسا اڑ اتے ہیں یہ بھی ناجائز اور جاہلیت کے کام ہیں ، ان سے بچنا نہایت ضروری ہے ، احادیث میں ان کی سخت ممانعت آئی ہے ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے امور سے پرہیز کریں اور ایسے کام کریں جن سے اللہ اور رسول ا راضی ہوں کہ یہی نجات کا راستہ ہے ۔
تعزیوں اور علم کے ساتھ بعض لوگ لنگر لٹاتے ہیں یعنی روٹیاں یا بسکٹ یا اور کوئی چیز اونچی جگہ سے پھینکتے ہیں ، یہ ناجائز ہے کہ رزق کی سخت بے حرمتی ہوتی ہے ، یہ چیزیں کبھی نالیوں میں بھی گرتی ہیں اور اکثر لوٹنے والوں کے پاؤں کے نیچے بھی آتی ہیں اور بہت کچھ کچل کر ضائع ہوتی ہیں ۔ اگر یہ چیزیں انسانیت کے طریق پر فقرا کو تقسیم کی جائیں تو بے حرمتی بھی نہ ہو اور جن کو دیا جائے انہیں فائدہ بھی پہنچے مگر وہ لوگ اس طرح لٹانے ہی کو اپنی نیک نامی تصور کرتے ہیں ۔ (بہارِ شریعت، جلد: ۱۶، ص:۲۴۷۔۲۴۹)
اسی طرح حضور سیدنا سرکارِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ و الرضوان نے بھی ماہِ محرم میں کئے جانے والے برے کاموں کی سخت مذمت فرمائی ہے ، آپ تحریر فرماتے ہیں ??تعزیہ ممنوع ہے ، شرع میں کچھ اصل نہیں اور جو کچھ بدعات ان کے ساتھ کی جاتی ہیں سخت ناجائز ہیں ۔ تعزیہ پر جو مٹھائی چڑ ھائی جاتی ہے اگر چہ حرام نہیں ہو جاتی مگر اس کے کھانے میں جاہلوں کی نظر میں ایک امر ناجائز کی وقعت بڑ ھانے اور اس کے ترک میں اس سے نفرت دلانی ہے لہٰذا نہ کھائی جائے ، ڈھول بجانا حرام ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد:۱۰، ص:۱۸۹
Eid ul Adha Mubarak


















http://www.eidmubarak.com/graphics/flash/Eid-ul-adha.swf
Don’t see anything above? You need the latest Flash plug-in. Click here to get the plug-in.
| http://www.eidmubarak.com/graphics/flash/goat_protest.swf
Don’t see anything above? You need the latest Flash plug-in. Click here to get the plug-in.
|



![]() |
| Hajj Wallpapers, Kaaba Wallpapers, Eid Wallpapers |
![]() |
![]()






















آج کے بت
حضرت ابراہیم کا زمانہ آج سے چار ہزار برس قبل کا ہے ۔ یہ وہ دور تھا جب ایک خدا کی عبادت کا تصور ختم ہو چکا تھا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو حرمِ مکہ کے پاس بسایا تاکہ ایک خدا کی عبادت کی رسم دوبارہ قائم ہوجائے ۔ اس موقع پر جو دلنواز دعا آپ نے فرمائی اس کا ایک جملہ اس طرح قرآنِ مجید میں نقل ہوا ہے کہ اے میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ پروردگار! ان بتوں نے بہتوں کو گمراہ کرڈالا ہے ، (ابراہیم 35-36:14) ۔
عجیب بات ہے کہ چار ہزار برس بعد انسانیت ایک دفعہ پھر خدا فراموشی کے دور میں داخل ہو چکی ہے ۔ پہلی فراموشی عبادتِ رب کی تھی اور موجودہ فراموشی ملاقاتِ رب یعنی قیامت کے دن خدا کے حضور پیشی کی ہے ۔ پہلے مٹی کے بتوں (Idols) نے انسانوں کو اپنی طرف کھینچ کر خدا سے دور کیا تھا اور اب آج American Idols اور Indian Idols جیسے میڈیا شوز انسانوں کو اپنی طرف کھینچ کر خدا سے دور کر رہے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کا میڈیا ایک ’’بت‘‘ بن چکا ہے ، جس کی ’’پرستش‘‘ ہر گھر میں صبح و شام کی جاتی ہے ۔ یہ بت دنیا اور اس کی رنگینیوں ، اس کی حسیناؤں ، اس کے جھمیلوں ، اس کی کہانیوں ، اور اس کے مقابلوں میں انسانوں کو اس طرح الجھاتا ہے کہ انسان خدا و آخرت کو بھول جاتا ہے ۔ ایسے میں کوئی بندۂ مومن اپنی اولاد کو اگر خدا پرست بنانا چاہے تو اس کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اس ’’بت‘‘ کی پرستش سے دور رکھنے کے لیے عملی اقدامات بھی کرے اور پروردگار سے بھی وہی دعا کرتا رہے جو ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی کہ اے میرے رب مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔ پروردگار ان بتوں نے بہتوں کو گمراہ کرڈالا ہے ۔ یہی اس دور میں بندگی رب کی رسم باقی رکھنے کا واحد طریقہ ہے ۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق لندن میں قتل
متحدہ قومی مومنٹ کےممتازرہنما ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن میں انکی رہائش گاہ کے قریب قتل کردیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق عمران فاروق برطانوی وقت کے مطابق تقریبا ساڑھے سات بجےشام اپنے گھر کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے کے کہ وہا ں پر موجود کسی شخص نے انہیں چھریوں کے وار کر کے شدید زخمی کردیا۔ اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ڈاکٹر عمران فاروق ایم کیو ایم کے بنیادی اور اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ نواز شریف کے دور حکومت میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں ایک عرصے تک روپوش ہونے کے بعد، عمران فاروق ڈرامائی طور پر لندن پہنچ گئے تھے جہاں وہ جلا وطنی کی زندگی گزاررہے تھے۔ عمران فاروق کے قتل کے سوگ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنی 57 ویں سالگرہ کی تقریبات منسوخ کردی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے فون پر رابطے پر ایم کیو ایم کے لندن دفتر نے عمران فاروق کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین کے صدارت میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔ ڈاکٹر عمران فاروق ایم کیو ایم میں رابطہ کمیٹی کے کنوینر کے عہدے پہ فائز ہونے والے واحد رہنما تھے۔ تاہم وہ گزشتہ دو سال سے پارٹی میں غیر فعال ہونے کے بعد سے سیاسی منظر نامے سے غائب تھے ۔ ڈاکٹر عمران کے والد فاروق احمد بھی ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر 1997 میں کراچی سے رکنِ قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ مقتول نے سوگواران میں اہلیہ شمائلہ نذر (متحدہ قومی موومنٹ کی سابق رکنِ صوبائی اسمبلی سندھ جن سے انہوں نے 2004 میں شادی کی تھی) اور دو بچے چھوڑے ہیں ۔ دریں اثنا، جمعرات کی رات گئےوائس آف امریکہ سےبات کرتے ہوئےمتحدہ قومی تحریک کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اورسمندر پارپاکستانیوں کےوفاقی وزیرڈاکٹر فاروق ستارنےڈاکٹرعمران فاروق کےجانبحق ہونےکو پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر عمران فاروق کے والدین اور متحدہ کی خواہش ہے کہ مرحوم کی تدفین پاکستان میں ہو۔ ڈاکٹر فاروق ستارنے اِس واقعے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک کرنے والوں نےایسے دِن کا انتخاب کیا جب، اُن کے بقول، متحدہ کےارکان قائدِ تحریک کی ملک بھر میں سالگرہ منانے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ ‘یہ سانحہ ایسے وقت پیش آیا جب متحدہ ایک نئے جذبے کے ساتھ نظریاتی و ذہنی انقلاب کی تیاری کر رہی ہے۔’ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جب تک واقعے کی تحقیقات مکمل نہیں ہوتی تو کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اُن کے بقول، صحیح صورتِ حال واضح ہو تو کوئی بات کہی جاسکتی ہے۔ رابطہ کمیٹی کے مرکزی رُکن، سلیم شہزاد نے ڈاکٹر عمران فاروق کی ملک اور ایم کیو ایم کے لیے خدمات کو سراہا اور کہا کہ مرحوم تحریک کے کنوینر، رُکن قومی اسمبلی اور وزیر رہ چکے تھے، جنھوں نے شروع سے لے کر تکالیف کاٹیں اور تحریک میں قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے سوائے اِس بات کے کہ اُن پر حملہ ہوا جِس میں وہ جانبحق ہوگئے۔ سلیم شہزاد نے بتایا کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو پولیس نے علاقے کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور ہلاکت سے متعلق تفصیلات کا علم اُسی وقت ہوسکے گا جب پوسٹ مارٹم اور پولیس کی تحقیقات کی رپورٹ سامنے آئے گی۔ اُنھوں نے اِن رپورٹوں کی تردید کی کہ ڈاکٹر عمران فاروق پر خود اُن کے اپنے محافظ نے حملہ کیا تھا۔
ماہِ رمضان کا تحفہ عید
دوستوں ماہِ رمضان کے مبارک مہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے عید کا تحفہ رکھا ہے،
اس عید کی خوشی یقینا ہمارے لیے سال کی بہترین خوشی ہوتی ہے، ہر چیز کا اہتمام کیا جاتا ہے،
دوستوں رشتے داروں سے ملتے ہیں،اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنی خوشی شئیر کرتی ہیں،
اور سب سے اہم چیز جو ہوتی ہے وہ ہے،،،،،،،،،،،،،،،،
عیدی
میں ابھی تک ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں جن کو کسی کو عیدی نہیں دینی ہوتی،
سب سے لینی ہی ہوتی ہے، چھوٹے بھائی تک سے۔ ۔ ۔
عید کے دن عیدی ملنا اور عیدی لینا یہ دونوں مختلف کام ہیں،
کچھ لوگ آپ کے گھر آتے ہیں یا آپ جاتے ہیں اور خاموشی سے جو عیدی مل گئی لے لی بغیر کسی چوں چراں کے
اور عیدی لینا ، یہ بڑے مزے کا کام ہوتا ہے ، عموما یہ کام بھائیوں اور ماموں خالاوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے،
ہلکی پھلکی نوک جھنک کے بعد جب اپنے مطلب کی عیدی ہاتھ آتے ہے تو جو مزاہ آتا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے کے آپ نے کوئی جنگ جیت لی،
یہ ساری باتیں ساری ہنسی مزاق اپنی جگہ
،
مگر ایک چیز میری سمجھ میں نہیں آتی،
کہ عیدی میں پیسے دینے کا ریواج کیوں ہے؟
اور کیا آپ کے خیال میں یہ بات ٹھیک ہے کے عیدی میں پیسے ہی دیے جانا چاہیے یا کوئی تحفہ دے دیا جائے،
اب آپ لوگ ان سوالوں پر اپنا پوائنٹ آف ویو بتائیں،
اور یہ بھی کے کیا پیسے دینا چاہیے یا کوئی تحفہ دے دیا جائے؟


































(especially chicken tikka)
















)



















































Recent Comments