Home > Amazing, America, Artical, Special Persons, Urdu, Women, World > ادھورا جسم مکمل عورت

ادھورا جسم مکمل عورت


دنیا میں ہر سال سیکڑوں افراد معذور پیدا ہوتے ہیں‘ مگر ان میں سے کتنے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بلند پایہ حوصلے اور مضبوط قوتِ ارادی سے جسمانی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیتے۔ دنیا میں ایسے کئی لوگوں کی مثالیں موجود ہیں‘ ایسے ہی لوگ صحیح معنوں میں زندگی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ انہیں عام لوگوں کی نسبت زیادہ تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اُردوڈائجسٹ میں بھی آپ نے ایسے بہت سے افراد کی سرگزشت پڑھی ہے جو کہ آج زندگی کے مختلف شعبوں میں معذور ہونے کے باوجود عام انسانوں سے زیادہ اپنی صلاحیت اور قابلیت کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ معذور اگر مرد ہو‘ تو بات کچھ اور ہے‘ لیکن یہی معذوری اگر کسی عورت میں ہو‘ تو مردوں کی نسبت زندگی گزارنے کے لیے کس قدر ہمت اور حوصلے سے کام لینا پڑتا ہے اس کی مثال ہمیں اس عورت کی داستان میں ملے گی۔ کولوراڈو ﴿امریکا﴾ میں پیدا ہونے والی روز ادھورے جسم کے ساتھ اس دنیا میں آئی‘ دراصل اس میں پیدائشی نقص تھا‘ یہ نقص بھی غیرمعمولی ہے جسے (Sacral Agenesis) سیکرل اے جینسِس کہتے ہیں اس میں ریڑھ کی ہڈی کے مہرے نہیں بنتے۔ یہ عارضہ بچے کو ماں کے پیٹ میں ہی لاحق ہو جاتا ہے اور تیسرے سے ساتویں ہفتے کے دوران وقوع پذیر ہوتا ہے۔ رحم مادر میں چوتھے ہفتے کے دوران بچے کی ریڑھ کی ہڈی اور متعلقہ عصبی نظام تکمیل کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ درست وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں تاہم ماہرین ﴿Etiologists﴾ کے مطابق مناسب خوراک خصوصاً فولک ایسڈ مناسب مقدار میں نہ ملنے کے باعث اس مرحلے پر بچے کی درست نشوونما اور بڑھوتری نہیں ہو پاتی۔ اس کی دوسری بڑی وجہ ماں کا ذیابیطس بھی ہے۔ اس مرض کے شکار ہونے والوں بچوں میں نچلا دھڑ یا تو مکمل طور پر معذور ہو جاتا ہے یا پھر اس کی نشوونما اس حد تک رُک جاتی ہے کہ نچلا دھڑ اپنا وجود ہی کھوتا چلا جاتا ہے۔ روز کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اس کے کولہوں سے نچلا جسم مناسب نشوونما نہ پا سکا جس کے باعث اس کا نچلا دھڑ عجیب بد وضع شکل اختیار کر گیا۔ ساتھ ہی اس کے بدوضع پاؤں تھے جو اُلٹی جانب مڑے ہوئے تھے۔ روز چونکہ چھوٹی تھی اس لیے پیروں کے نقص کے ساتھ یہ ممکن تھا کہ وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا لے کیونکہ دونوں پیر چھوٹے ہونے کے علاوہ بے حس و حرکت بھی تھے۔ روز جب بھی سیدھی طرح بیٹھتی تو ایک طرف کو لڑک جاتی‘ اس طرح وہ خود کو کئی دفعہ زخمی بھی کر چکی تھی۔ اس لیے اس کی ماں کو ہر وقت اسے اپنی نظروں کے سامنے رکھنا پڑتا۔ جب وہ دو سال کی ہوئی‘ تو اس کے والدین نے اسے ڈاکٹروں کو دکھایا۔ ڈاکٹروں نے اس کے لیے یہی بہتر جانا کہ عمل جراحی کے ذریعے اس کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں۔ آخر بہت سوچ بچار کے بعد اس کے والدین نے اس فیصلے کو خدا کی طرف سے حکم سمجھ کر قبول کر لیا اور یوں آپریشن کے بعد روز کسی حد تک عام بچوں کی طرح زندگی گزارنے لگی۔ روز کے والد موٹر مکینک تھے اور روز کا ایک بھائی پیوبلو بھی ذہنی معذور تھا۔ چھوٹی عمر ہی میں روز کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ وہ عام بچوں کی طرح نہیں ہے وہ ان کی طرح دوڑ سکتی تھی نہ ہی اُچھل کر اسکول بس میں سوار ہو سکتی تھی۔ روز کو گاڑیوں سے بہت دلچسپی تھی۔ تین سال کی عمر ہی میں وہ اپنے والد کے اوزاروں سے کھیلنے لگی تھی۔ وہ سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں اور ٹرکوں کو بڑی حسرت سے دیکھتی۔ اس کی خواہش تھی کہ کاش اس کے پاس بھی اپنی ایک گاڑی ہو۔ اس کا والہانہ شوق دیکھتے ہوئے اس کے والد نے اس کے لیے ایک پرانی گاڑی خریدی اور اس کی بناوٹ اور کنٹرول میں بنیادی تبدیلیاں کیں کہ وہ مکمل طور پر ہاتھ سے چلائی جا سکے۔ وہ گاڑی اُس نے روز کو تحفے میں دے دی۔ یوں روز کا یہ خواب پورا ہو گیا۔
روز کچھ عرصہ بچوں اور لوگوں کی نظروں میں عجوبہ بنی رہی‘ کئی سال تک تو اسکول کی انتظامیہ کا اصرار رہا کہ روز کو مصنوعی ٹانگیں لگا کر اسکول آنا چاہیے تاکہ وہ دوسرے بچوں کی طرح نارمل نظر آئے اور بچوں کے سامنے مذاق نہ بنے‘ مگر روز کو معذوری کا اشتہار بننا پسند نہیں تھا۔ اس نے اپنے اساتذہ سے بھی یہی کہا کہ وہ کبھی بھی یہ پسند نہیں کرے گی کہ اس کی مرضی کے خلاف کچھ کیا جائے۔ آخرکار روز کے اچھے تعلیمی ریکارڈ اور بلندہمتی کے سبب اسکول انتظامیہ نے اپنا مطالبہ واپس لے لیا۔ روز اپنی جسمانی حالت کے بارے میں کہتی تھی کہ اگر آپ ایک باربی ڈول لیں اور اس کی ٹانگیں کاٹ کر علٰحدہ کر دیں تو اس کے بعد جو کچھ بچے گا وہ سب کچھ میرے پاس ہے۔ ان ٹانگوں کے علاوہ میں ایک بالکل نارمل لڑکی ہوں یوں کہیے کہ میرا سارا جسمانی نظام نارمل ہے۔ اور میرے چھوٹا نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ میری ریڑھ کی ہڈی میں چار مہرے کم ہیں۔ ۱۹۹۷ئ میں روز کی ملاقات ڈیوسیگنز سے ہوئی جو ایک آٹوپارٹ کی دکان پر کام کر رہا تھا۔ روز اس دکان سے اپنی اور اپنے والد کی ورکشاپ کے لیے آٹوپارٹس خریدنے جاتی تھی۔ شروع شروع میں وہ فون پر رابطے میں رہے پھر یہ تعلق بڑھتے بڑھتے ان کی شادی کے ارادے تک پہنچ گیا۔ روز اور ڈیو کے جاننے والے احباب کے لیے شادی کی یہ خبر حیران کن تھی کئی لوگوں نے ڈیو کو سمجھانے کی کوشش کی کہ دنیا میں کئی نارمل لڑکیاں موجود ہیں‘ مگر ڈیو کے پاس صرف ایک ہی جواب تھا کہ میں بھی ایک نارمل لڑکی سے شادی کر رہا ہوں۔ اگر خدا نے اُسے ایسا بنایا ہے تو اس میں روز کا کیا قصور ہے۔ انہوں نے ۱۹۹۹ئ میں شادی کر لی۔ شادی پر ساری رسومات ادا کی گئیں اور ڈیوشادی پر مسلسل مذاق کرتا رہا۔ ڈیو اور روز معمول کی ازدواجی زندگی گزارنے لگے‘ شادی کے دو سال بعد روز کو حمل ٹھہر گیا۔ میڈیکل سائنس کی دنیا میں کسی عورت نے آج تک (Sacral Agenesis) کی موجودگی میں کسی بچے کو جنم نہیں دیا تھا۔ ڈاکٹروں کے لیے یہ ایک انہونی بات تھی‘ سوائے ایک ڈاکٹر کے تمام ڈاکٹر اس رائے پر متفق تھے کہ روز کو بچہ پیدا نہیں کرنا چاہیے‘ اس طرح اس کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ بچے کا دباؤ اس کے پھیپھڑوں پر پڑتا اور روز کے لیے بہت مشکل صورتِ حال پیدا ہو جاتی‘ لیکن یہاں بھی روز کی بلندہمتی اور خوداعتمادی کام آئی۔ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی روز نے اپنی اور بچے کی زندگی میں سے بچے کا انتخاب کیا اور آپریشن کے ذریعے روز نے ایک کرشماتی بچے کو جنم دیا جس کی پیدائش ساری میڈیکل سائنس کی نظروں میں عجوبے سے کم نہیں تھی۔ مگر دوسری جانب روز کے تو آنسو نہیں تھمتے تھے کہ خدا نے اس کے عورت ہونے کو مکمل کر دیا تھا۔ بچے کی دوسری سالگرہ پر روز کو ایک اور امتحان سے گزرنا پڑا کہ اس کی والدہ کو کینسر ہو گیا اور کچھ ہی دنوں بعد دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس موذی بیماری سے چل بسی‘ وہ والدہ جو روز اور اس کے گھر کے سارے کام سنبھالتی تھی۔ والدہ کے انتقال نے ایک طرح سے اُس کا سارا گھریلو نظام درہم برہم کر دیا‘ دوسری جانب روز کے والد کو بھی الزائمر کی بیماری ہو گئی اور وہ بھی اپنے ذہنی معذور بیٹے کی طرح کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے‘ یہ بات ظاہر تھی کہ روز کو اب سارے گھر کے نظام کے ساتھ ساتھ بیٹے‘ شوہر‘ بھائی اور باپ کا بھی دھیان رکھنا پڑے گا۔ روز کے والد جو کئی سالوں سے سگریٹ نوشی کر رہے تھے انہیں مسلسل آکسیجن کی بھی ضرورت تھی‘ مگر اس وقت روز نے کمال ہمتی کا ثبوت اور صبرواستقامت کا وہ مظاہرہ کیا کہ لوگ اس کی بلندہمتی کے قائل ہو گئے۔ ایک انٹرویو میں ان دنوں کی یادتازہ کرتے ہوئے روز نے کہا کہ بہت سے لوگ معذوری کی وجہ سے محسوس کرتے ہیں کہ زندگی کو انہوں نے کچھ دینا ہے جبکہ میں ایسے پلی بڑھی ہوں کہ مجھے کسی کو کچھ نہیں دینا۔ اس لیے میں کہتی ہوں اُٹھو‘ اور کچھ کر کے دکھاؤ۔ شادی کے چوتھے سال ہی روز کو ایک نیا شوق چرایا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ بھی کاروں کی دوڑ میں حصہ لے۔ اس مقصد کے لیے اُس نے ایک پرانی مستانگ کار خریدی اور اس میں V-8 انجن منتقل کرنے کے لیے تبدیلیاں کرنے لگی۔ روز نے دوڑ سے پندرہ دن پہلے گاڑی کو ٹریک پر دوڑنے کے لیے تیار کر لیا۔ پھر وہ دوڑ میں باقاعدہ طور پر شامل ہوئی‘ گوکہ اس دوڑ میں روز کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی مگر اس نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی مردوں کی طرح کار دوڑ میں حصہ لے سکتی ہے۔ دو سال بعد روز نے پھر ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا جسے ڈیو نے روز کے کار دوڑ میں حصہ لینے کا انعام قرار دیا۔ دنیا کے سامنے روشن چہرہ لیے کامیاب‘ پُراعتماد اور پُرعزم نظر آنے والی روز کو بھی ذاتی اور گھریلو مسائل تھے۔ یہ مسائل ایک عام انسان کو بھی مایوس کرنے کے لیے کافی تھے مگر روز نے زندگی میں انہیں اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیا۔ آج بھی روز ڈیو کے ساتھ خوش و خرم انداز میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ روز نے اپنے لیے ایک خصوصی پہیوں والی اسکیٹنگ ٹائپ گاڑی بنائی ہوئی ہے جس کی مدد سے وہ چل پھر کر روزمرہ کے کام کر سکتی ہے۔ وہ ہر ویک اینڈ پر بچوں کے ہمراہ قریبی پارک میں جا کر تفریح کرتے ہیں۔ گھر کی تمام تر شاپنگ وہ اور ڈیو مل کر کرتے ہیں ان دونوں کی محبت خوداعتمادی اورباہمتی کا ثبوت ہے۔

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: