تلمبہ


تلمبہ. پنجاب کا ایک تاریخی قصبہ


جہاں سکندراعظم سے لے کر رنجیت سنگھ تک کئی حملہ آوروں نے قیام کیا اور اپنی یادگاریں چھوڑیں

’تاریخ سرزمین خانیوال‘ کے مصنف محمد بشیر سہو لکھتے ہیں کہ ’تلمبہ‘ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود حضرتِ انسان کی سرگزشت۔ یہ حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان سے پہلے بھی آباد تھا۔ اسے توحید کے متوالے بادشاہ پر ہلاد کا پایہ تخت بننے کا اعزاز حاصل ہوا جس نے ہندو سندھ کے صنم کدوں میں توحید کی شمع روشن کی بھی۔ راجہ پر ہلاد کے بعد اس کا بیٹا راجہ کنب تخت نشین ہوا جس کی نسبت سے شہر کا نام ’کنب‘ یا ’کنبہ‘ مشہور ہو گیا۔ کنبہ شہر کا ذکر رَگ وید میں بھی آیا ہے۔ بلکہ رگ وید کی تصنیف کا اس علاقے سے گہرا تعلق ہے۔ تلمبہ کو ہندو مذہب کے ہیرو رام چندر جی‘ لچھمن جی اور سیتا کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا۔
فاضل مصنف مزید بتاتے ہیں کہ تلمبہ عرصہ دراز تک سکندراعظم سمیت کئی بیرونی حملہ آوروں کی لوٹ مار کا مرکز بنا رہا تاوقتیکہ آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کر دیا۔ ان ہی کے الفاظ میں:
’’اس دوران تلمبہ کے حکمران کو کوبن موکو کا شمار ان چند خوش نصیب حکمرانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے قبولیت اسلام کا شرف حاصل کرنے میں سبقت پائی۔ فتح ملتان کے بعد محمد بن قاسم نے عکرمہ بن ریحان شامی کو تلمبہ کا گورنر مقرر کیا۔ نامور باغی عرب سردار محمد علافی بھی مضافاتِ تلمبہ میں مقیم رہا جسے بعد میں محمدبن قاسم نے معاف کر دیا تھا۔ محمد علافی نے یہیں وفات پائی اور دفن ہوا۔ اسی دوران شہر کا نام یہاں کے ایک حکمران تلمان کی وجہ سے تلمہ یا تلمبہ مشہور ہو گیا۔

تلمبہ کی قدیم یونیورسٹی محمد بن قاسم اسلامی یونیورسٹی میں بدل دیا گیا تھا‘ اسلامی دور میں دوبارہ عظیم الشان علمی مرکز کی حیثیت اختیار کر گئی۔ لنگاہ دور میں اس کے رئیس الجامعہ علامہ محمدعبداللہ کی شہرت نہ صرف برصغیر بلکہ عالم اسلام میں پھیلی ہوئی تھی۔
شیرشاہ سوری نے اپنے دور میں یہاں ایک پڑاؤ بنوایا۔ بادشاہ اکبر کے دور میں تلمبہ کو صوبہ ملتان کے ایک پرگنہ یا ضلع کی حیثیت حاصل تھی اور یہاں ساہو خاندان حکمران تھا۔ شہر میں پانچ ہزار پیدل اور تین سو سوار فوج متعین تھی۔ شاہجہاں نے اپنے دور میں یہاں ایک عظیم الشان سرائے تعمیر کرائی۔ داراشکوہ تخت نشینی کے مسئلے پر اپنے بھائی اورنگ زیب عالمگیر سے شکست کھا کر تلمبہ آیا۔ شہر کے قریب ہی مخالف فوجی دستوں کے سر پر آ پہنچنے پر اس نے تاجِ شاہی یا پارس پتھر دریائے راوی میں پھینک دیا۔ ۱۷۵۰ئ میں احمد شاہ ابدالی نے تلمبہ پر حملہ کیا اور اسے پھر لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بنایا۔ ۱۷۶۶ئ میں سکھ سردار جھنڈا سنگھ نے تلمبہ پر حملہ کر کے قتل و غارت گری کی۔ ۱۷۷۸ئ میں تیمور شاہ اور ۱۷۹۳ئ میں شاہ زمان نے حملہ کیا۔ ۱۸۱۳ئ میں افغانستان کا معزول بادشاہ‘ شاہ شجاع تلمبہ آیا۔ اسے نواب مظفر خاں نے تلمبہ کے مضافات میں جاگیرعطا کی تھی۔ ۱۸۱۸ئ میں اس علاقے پر رنجیت سنگھ کا قبضہ ہو گیا۔ رنجیت سنگھ نے تلمبہ میں بارہ دری بنوائی اور فحاشی کا اڈا قائم کیا۔ ۱۸۲۷ئ میں انگریز سیاح چارلس مَیسَن تلمبہ آیا۔ مَیسَن کے سفرنامے سے پتا چلتا ہے کہ انگریزی قبضے سے قبل دورِزوال میں بھی تلمبہ ایک بڑا شہر تھا۔ شہر چاروں طرف سے کھجور کے باغات میں گھرا ہوا تھا۔ شہر کے اِردگرد کافی چوڑی اور بلند حفاظتی فصیل بنی ہوئی تھی۔ شہر میں داخل ہونے کے لیے شاندار دروازے تھے۔

مملکت کے طول و عرض میں پھیلے جنگلات میں شکار کھیلنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ جب وہ گنجی بار آتا تو دیپالپور کے علاوہ تلمبہ میں بھی قیام کرتا۔ اس نے تلمبہ میں ایک چھاؤنی قائم کی جو مدتوں ’فیروز چھاؤنی‘ کے نام سے مشہور رہی۔ اب یہی علاقہ ’چھاؤنی‘ کے نام سے معروف ہے۔
مشہور فاتح تیمورلنگ نے بھی تلمبہ پر حملہ کیا۔ ضلع ملتان کے گزیٹیئر برائے ۱۹۲۳۔۲۴ئ میں تیمورلنگ کی اپنی یادداشتوں میں سے ایک طویل اقتباس درج ہے۔ اس میں تیمور نے تلمبہ پر اپنے حملے کی روداد بیان کی ہے۔ اقتباس کا آزاد اردو ترجمہ پیش ہے:
’’میں تلمبہ پہنچ کر دریائے راوی کے کنارے خیمہ زن ہو گیا۔ اس روز علما و مشائخ سمیت تمام رؤسائے شہر ملاقات کے لیے حاضر ہوئے اور قدم بوسی کا شرف حاصل کیا۔ ان کے چہروں سے ان کی نیک نیتی عیاں تھی لہٰذا میں نے ہر ایک کو رتبے کے مطابق خلعتوں اور دیگر انعامات سے نوازا۔ اس کے بعد میں نے قلعہ تلمبہ سے ملحقہ میدان میں ڈیرے ڈال لیے۔ میرے وزرائ نے اہلِ تلمبہ کے لیے دو لاکھ روپے تاوان جنگ مقرر کیا اور یہ رقم جمع کرنے کے لیے اپنے آدمی بھی مقرر کر دیے لیکن میں نے انہیں آنحضرتؐ کے ساتھ قرابت اور علمائے دین کی آپؐ کے ساتھ مسلمہ نسبت کی بنیاد پر تاوان وصول کرنے سے منع کر دیا۔ شہر کے سید اور علما میری طرف سے قیمتی خلعت اور عربی النسل گھوڑے ملنے ہی پر خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے‘ وہ میرے اس اعلان سے مزید مسرور ہوئے۔ اسی عرصے میں پیچھے رہ جانے والے فوجی دستے بھی وہاں پہنچ گئے۔ ہزاروں سپاہیوں پر مشتمل یہ فوج اب خوراک کی کمی محسوس کرنے لگی۔ ہمیں پتا چلا کہ مقامی لوگوں کے پاس اجناس کا وافر ذخیرہ موجود ہے چنانچہ میں نے حکم دیا کہ مفتوحہ علاقے کے باشندوں سے نقد رقم کے بجائے اجناس کی شکل میں تاوان جمع کیا جائے۔
تلمبہ کے لوگ چاہتے تھے کہ بھلے میرا لشکر بھوکا مر جائے‘ ان کے ذخائر اجناس کسی صورت نہ چھیڑے جائیں۔ تاہم یہ صورت حال میرے سپاہیوں کے لیے ناقابلِ قبول تھی چنانچہ انہوں نے شہر پر حملہ کر کے اجناس کی بہت بڑی مقدار ہتھیا لی۔ جب مجھے اپنے لشکر کی اس لوٹ مار کی خبر ملی تو میں نے مقامی زعما کو اختیار دے دیا کہ وہ تاتاریوں کو شہر سے باہر نکال سکتے ہیں اور حکم دیا کہ جتنی اجناس یا دیگر اشیا لوٹی گئی ہیں‘ ان کی قیمت قابل ادا تاوان میں سے منہا کر دی جائے۔
اسی اثنا میں مجھے اطلاع ملی کہ تلمبہ کے گردونواح میں کچھ اہم سردار جو قبل ازیں میری اطاعت قبول کر چکے تھے‘ اب آمادۂ بغاوت ہیں۔ میں نے امیر شاہ ملک اور شیخ محمد کو ان کی سرکوبی کے لیے بھجوایا۔ وہ دونوں ایک مقامی فرد کی رہنمائی میں اُسی وقت روانہ ہو گئے اور جنگل میں چھپے باغیوں کا سرقلم کر کے دم لیا۔ واپسی پر وہ ان کی عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر کے ساتھ لے آئے۔ مہم سے حاصل ہونے والا مالِ غنیمت ان کے علاوہ تھا۔ میں نے یہ سب کچھ اپنی سپاہ میں تقسیم کر دیا اور اس اطمینان کے بعد کہ پورے علاقے میں مزاحمت فرو ہو چکی‘ میں تلمبہ سے اپنی نئی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔‘‘ میرچا کر رند جو اس وقت ضلع اوکاڑہ کے ایک چھوٹے سے قصبے‘ ست گھرہ میں محو خواب ہے‘ ہمایوں کے دوستوں اور شیرشاہ سوری کے مخالفین میں سے تھا۔ شیرشاہ سوری نے لاہور کے صوبہ دار‘ ہیبت خان نیازی کو اسے اس سرکشی کا مزہ چکھانے کا حکم دیا۔ ہیبت خان نے تلمبہ کے قریب ایک مقابلے میں اس کے بیٹے میرن خان کو قتل کیا اور شیرشاہ سوری کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے اس کی پسلیاں کوئلوں پر بھنوا کر چبا ڈالیں۔
باپ کو بیٹے کے قتل اور اس سے بڑھ کر لاش کے اس اہانت آمیز سلوک کی خبر پہنچی تو وہ دن رات ہیبت خان سے انتقام لینے کی تدبیریں سوچنے لگا۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ یہی ہیبت خان سیت پور کے مقام پر میرچا کر رند کے ساتھ ایک لڑائی میں مارا گیا۔ اس فتح کا جشن تلمبہ میں عین اسی جگہ منایا گیا جہاں ہیبت خان نے میرن خان کی پسلیاں چبائی تھیں۔ میرچاکررند کے حکم پر ہیبت خان کی کھوپڑی کا پیالہ بنایا گیا اور اس نے پیالے میں شراب نوشی کر کے اپنا جوش انتقام سرد کیا۔
شاہ شجاع افغانستان کا بادشاہ تھا لیکن جب اس کے حالات بدلے تو وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گیا۔ نواب مظفرخان نے اسے تلمبہ میں کچھ جاگیر دے دی چنانچہ اس نے اپنے خاندان کے ہمراہ یہیں رہائش اختیار کر لی۔ ایک بار جب شاہ شجاع کشمیر کی مہم پر گیا ہوا تھا اور اس کی بخیروعافیت واپسی کے امکانات معدوم ہو رہے تھے‘ اس کی بیوی‘ شاہ بیگم نے اپنے نمایندے کے ذریعے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے درخواست کی کہ اگر وہ اس کے شوہر کی واپسی یقینی بنا سکے تو وہ کوہ نور ہیرا اسے پیش کر دے گی۔ مہاراجہ اس پیش کش پر بہت خوش ہوا اور کسی نہ کسی طرح شاہ شجاع کو کشمیر سے واپس لانے میں کامیاب ہو گیا۔ لاہور پہنچ کر اس نے تلمبہ جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو مہاراجہ نے اسے لاہور میں روک لیا اور مبارک حویلی میں اس کے ٹھہرنے کا بندوبست کر کے شاہ بیگم کو بھی تلمبہ سے بلا لیا۔ اس کے آگے کیا ہوا‘ تفصیل کنہیا لال سے سنیے جو اپنی کتاب ’تاریخِ پنجاب‘ میں لکھتے ہیں:
’’جب ایک ماہ کا عرصہ گزرا تو مہاراجہ نے کوہ نور ہیرا طلب کرنے ایک وکیل کو شاہ شجاع کے پاس بھیجا اور پیام دیا کہ شاہ حسبِ وعدہ اپنا جواہر دے کہ ہم نے جو وعدہ شاہ بیگم سے کیا تھا‘ وہ پورا ہو چکا۔ اب آپ کی طرف سے وعدہ وفائی ہونی چاہیے۔ یہ سن کر شاہ بہت گھبرایا اور ہرگز منظور نہ کیا کہ وہ کروڑوں روپے مالیت کا جواہر رنجیت سنگھ کو دے دے۔ اگرچہ کوہ نور اس کے پاس تھا‘ شاہ نے بہانہ کر کے بیان کیا کہ وہ الماس بعوض تین کروڑ روپیہ کے کابل میں رہن ہے۔ مہاراجہ بہت ناراض ہوا اور شاہ کی حویلی پر سخت پہرہ لگا کر اُسے مقید کر دیا اور کہلا بھیجا کہ شاہ کو بہرحال یہ جواہر ہم کو دینا ہو گا۔ ہم اس کے عوض پنجاہ ہزار روپیہ نقد اور تین لاکھ روپیہ کی جاگیر دے سکتے ہیں۔
شاہ نے پھر بھی یہی جواب دیا کہ یہاں میرے پاس جواہر کوہ نور نہیں‘ دو ماہ کے عرصے میں کابل سے منگوا دوں گا۔ جب وہ میعاد بھی گزر گئی اور جواہر کوہ نور نہ ملا تو مہاراجہ کی طرف سے سخت تشدد دیکھنے کو ملا۔ یہاں تک کہ تین روز تک شاہ کے باورچی خانے میں کھانا پکانے کی اجازت نہ ملی اور نہ کوئی سامان کھانے پینے کا شاہ کے پاس پہنچنے پایا۔ اس باعث شاہ اور تمام نوکر چاکر بھوک کے عذاب سے نیم جان ہو گئے۔ جب شاہ نے دیکھا کہ اب جان بچنا محال ہے تو کوہ نور دینے پر راضی ہوا مگر یہ کیا کہ جواہر کوہ نور جس زمرد کے خانے میں نصب کر کے بازو بند بنایا ہواتھا‘ اس سے اکھڑوا کر سونے کا خانہ بنوایا‘ کوہ نور اس میں نصب کر دیا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کو کہلا بھیجا کہ خود آ کر جواہر کوہ نور لے جائے۔ چنانچہ مہاراجہ خود بمقام مبارک حویلی گیا۔ شاہ نے وہ قیمتی جواہر نہایت افسوس و حسرت کے ساتھ مہاراجہ کو دے دیا۔ راجہ نے دریافت کیا کہ وہ جواہر کس قدر قیمت کا ہو گا؟ جواب دیا کہ اس کی قیمت لاٹھی ہے۔ میرے بزرگوں نے لوگوں کو لاٹھیاں مار کر ان سے یہ ہیرا چھینا تھا۔ تم نے مجھ کو لاٹھی مار کر چھینا ہے۔ کوئی اور زبردست ایسا آئے گا کہ وہ تم کو لاٹھی مار کر چھین لے گا۔‘‘
یہ تو تھے تلمبہ کی معلوم تاریخ میں سے چند اہم حقائق یا دلچسپ واقعات لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک اہم شہر ہونے کے ناتے تلمبہ شیرشاہ سوری‘ شاہجہان اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی نظرکرم کا خاص مورد بھی رہا ہے۔ آپ کو ان تفصیلات سے بھی دلچسپی ہو گی؟
گُل کون سا کھلتا ہے جو مرجھا نہیں جاتا شیرشاہ سوری نے ہندوستان کے طول و عرض میں بہت سی سڑکیں بنوانے کے علاوہ لاہور تا ملتان جانے والا راستہ بھی بہتر بنایا۔ اس نے سڑک کے دونوں طرف سایہ دار درخت لگوائے‘ معینہ فاصلوں پر سرائیں‘ کنویں اور مساجد تعمیر کیں اور ندی نالوں پر مضبوط پل اور دریاؤں پر گھاٹ تعمیر کیے۔ تلمبہ اسی سڑک پر ایک اہم پڑاؤ تھا۔ شاہجہان نے اپنے دورِحکومت میں یہاں ایک سرائے تعمیر کرائی۔ روایت کے مطابق اس سرائے کے چاروں جانب رہائشی کمرے اور درمیان میں کھلا صحن تھا۔ صحن میں سایہ دار درخت لگائے گئے۔ یہاں پر مسافروں کو مفت قیام و طعام اور گھوڑوں کے لیے چارے کی سہولت مہیا تھی۔ اس کا ایک حصہ مسلمانوں اور دوسرا ہندوؤں کے لیے مختص تھا۔ مسلمانوں اور ہندوؤں کے لیے الگ الگ باورچی مقرر تھے انہیں اپنے عقائد کے مطابق عبادت یا پوجا پاٹ کے لیے ضروری سہولیات مہیا تھیں۔
یہ بات میری نظر سے گزر چکی تھی کہ اس سرائے کے باقی ماندہ آثار اب بھی تلمبہ میں دیکھے جا سکتے ہیں لیکن سچ پوچھیں تو کئی لوگوں سے استفسار کے باوجود ہمیں ان کا کچھ پتا نہ چل سکا۔ یہ تو اللہ بھلا کرے ایک صاحب علم دوست کا جس نے یہ مسئلہ منٹوں میں حل کر دیا: ’’آپ جس سرائے کے آثار ڈھونڈتے پھر رہے ہیں‘ وہ تو زمانہ نامعلوم ہی میں دریا برد ہو گئی تھی۔‘‘ ’’آپ نے یہ بات کہیں پڑھی ہے؟‘‘ میرے ساتھی انجم فاروق نے پوچھا۔ ’’جی‘ لیکن اس وقت حوالہ ذہن میں نہیں‘ کہیں گے تو بعد میں اطلاع کر دوں گا۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں‘ آپ نے کہا اور ہم نے یقین کر لیا۔‘‘ میں نے بحث سمیٹنے کی خاطر جواب دیا اور پھر ہم مہاراجہ رنجیت سنگھ کی تعمیر کردہ بارہ دری کی تلاش رائیگاں میں نکل کھڑے ہوئے۔
آپ نے شاید سن رکھا ہو کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تلمبہ کے قریب دریائے راوی کے جنوبی کنارے پر ایک وسیع میدان میں سفید سنگ مرمر کی بارہ دری تعمیر کرائی تھی۔ مہاراجہ تلمبہ آتا تو اس بارہ دری میں اپنا دربار لگاتا اور لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ سناتا۔ اس میدان میں شیشم کا ایک بلندوبالا درخت تھا۔ کتب تاریخ میں مذکور ہے کہ قیام پاکستان تک یہ درخت موجود رہا اور عوام الناس میں ’رنجیت سنگھ والی ٹاہلی‘ کے نام سے معروف تھا۔
مہاراجہ کے حکم سے پھانسی کی سزاپانے والے مجرموں کو اسی درخت کے ساتھ لٹکایا جاتا۔ مہاراجہ تفریح کی ترنگ میں ہوتا تو انہیں خونخوار کتوں کے آگے پھینکوا دیتا جو پلک جھپکنے میں ان کی تکا بوٹی کر دیتے‘ بعض مجرموں کو نذرآتش کرواتا اور بعض کا سر تلوار سے قلم کرا دیتا۔ روایت کے مطابق جب مہاراجہ دربار منعقد کرتا تو تماش بین محض یہ مناظر دیکھنے کے لیے اس میدان میں جمع ہو جاتے۔ ہم نے تلمبہ کے مختلف باسیوں سے اس بارہ دری کا محل وقوع جاننا چاہا لیکن ہر کسی نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ بالآخر ایک راہ چلتے نوجوان‘ ندیم نے ہامی بھر لی کہ وہ ہمیں یہ بارہ دری دکھا سکتا ہے‘ لیکن جب ہم نے اسے ساتھ چلنے کی درخواست کی تو وہ کنی کترانے لگا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ گھر جاکر نماز جمعہ کی تیاری کرنا چاہتا ہے۔ تاہم ہمارے اصرار پر وہ بالآخر ہمارے ساتھ چلنے پر تیار ہو گیا۔ شہر کے ایک کونے میں نہر کے کنارے پہنچ کر اس نے ہمیں گاڑی روکنے کو کہا۔ ’’یہی وہ جگہ ہے جس کی آپ کو تلاش تھی۔‘‘ اس نے بتایا اور پھر پوچھنے لگا کہ ہم نے کس کے گھر جانا ہے؟ ’’ندیم!‘‘ اب میں اس سے مخاطب تھا ’’میرا خیال ہے ہم تمہیں اپنی بات سمجھا نہیں سکے۔ ہمیں کسی سے نہیں ملنا‘ ہمیں تو اس بارہ دری کی تلاش ہے جو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تعمیر کرائی تھی۔‘‘ ’’اب یہاں ایسی کوئی عمارت موجود نہیں۔ کاش! میں وہیں آپ کا سوال سمجھ گیا ہوتا تو آپ کا وقت ضائع نہ ہوتا۔میرا خیال تھا آپ اس علاقے میں کسی سے ملاقات کرناچاہتے ہیں سو میں آپ کو یہاں لے آیا ہوں۔ مجھے معاف کیجیے۔‘‘
’’معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ اب انجم فاروق اس سے مخاطب تھے ’’مہاراجہ رنجیت سنگھ کی تعمیر کردہ بارہ دری اب یہاں موجود ہو یا نہ ہو ایک بات ثابت ہو گئی ہے کہ وہ بارہ دری واقعی یہیں ہوا کرتی تھی اور یہیں وہ اپنا دربار منعقد کیا کرتا تھا۔ آخر کار اس علاقے کا نام بارہ دری ایسے تو نہیں پڑا۔‘‘ موضوع بدلا تو انجم فاروق نے تلمبہ کے بازار حسن کا ذکر چھیڑ دیا۔ ’’مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے دورِحکومت میں علاقے کے تین اہم شہروں تلمبہ‘ ملتان اور کہوڑ میں بازار حسن قائم کیے اور دورونزدیک سے خوب رو عورتیں اور ان کے سرپرست یہاں لاکر آباد کیے۔‘‘
انجم فاروق کی گفتگو جاری تھی اور میرے ذہن میں سید محمدلطیف کی کتاب ’تاریخ پنجاب‘ میں مہاراجا کی عادات و خصائل کے بیان کا یہ حصہ گردش کر رہا تھا: ’’مہاراجہ عیش دوست اور حسن پرست تھا اور جب اسے افکارِ زمانہ و مہماتِ سلطنت سے فراغت ہوتی اور اس کے دل کو قرار ہوتا تو وہ فرصت کا وقت عیاشی میں صرف کرنا پسند کرتا۔ اربابِ نشاط کا ایک بڑا طائفہ اس کا دائمی ملازم تھا اور ایک مہاراجہ کی بہت بڑی رقم ماہوار اس پر صرف ہوتی مہاراجہ ان عورتوں کو جنگی لباس پہناتا‘ ڈھال تلوار‘ تیرکمان سے آراستہ کرتا‘ آپس میں لڑواتا اور انہیں لڑتے دیکھ کر تالیاں بجاتا اور خوش ہوتا۔ جب یہ عورتیں اس طرح سپاہیوں کے لباس پہنتیں تو انہیں مہاراجہ کا محافظ کہا جاتا۔ اکبرشاہ اور بہادر شاہ‘ دہلی کے برائے نام بادشاہوں نے لڑکوں کی ’بچہیرا پلٹن‘ رکھی تھی۔ رنجیت سنگھ نے اس پر یہ طرّہ کیا کہ عورتوں کو مردانہ لباس پہنایا اور سپاہی بنا دیا۔
’’رنجیت سنگھ خود اپنے دوستوں میں کہا کرتا ’’یارو!
میرے باڈی گارڈ کے سپاہی مجھے سخت تنگ کرتے ہیں۔ وہ لڑائی میں تو لڑنے نہیں نکلتے لیکن ان کی آپس میں لڑائیاں میرا ناک میں دم کر دیتی ہیں۔ سارے پنجاب کا میں نے بندوبست کیا لیکن ’محافظوں‘ کا مجھ سے بندوبست نہ ہو سکا۔ میری تمام تدبیریں ان کی شرارت کے روبرو عاجز آ گئیں۔‘‘ جب ناچ رنگ کاجلسہ گرم ہوتا تو رنجیت سنگھ بڑے شوق سے ان عورتوں کو متواتر جام اپنے ہاتھ سے دیتا۔ یہ خانہ خراب صراحیاں چھوڑ مٹکوں تک ڈکار جاتیں اور جب نشہ زور کرتا تو آپس میں لڑنا جھگڑنا شروع کرتیں۔ ایک کا ہاتھ ہوتا دوسری کی چوٹی۔ ایک کی پشواز ہوتی دوسری کا سر۔ کپڑے خوب پھٹتے۔ نوچ کھسوٹ دل کھول کر ہوتی۔ غرض ہر ایک طرح کے مکروہات ہوتے۔ رنگیلا مہاراجہ ان کو اور بھی لڑواتا‘ خوب کشتیاں کراتا اور روپوں کی ان پر بوچھاڑ کر دیتا۔ جو کپڑے رات کو پھٹتے‘ دن کو ان سے بہتر رات کے بہادروں کو مل جاتے۔‘‘ آئیے اب آپ کو تلمبہ کے تاریخی آثار کی سیر کرا دی جائے۔ ان میں سے اہم ترین وہ قلعہ ہے جو شریف بیگ تکلو نے تعمیر کیا تھا۔ شریف بیگ تکلو کون تھا اور تلمبہ کس طرح اس کی جاگیر میں شامل ہوا‘ یہ باتیں جاننے کے لیے ہمیں دو ڈھائی سو سال پیچھے جانا ہو گا۔
کش مکش میں ترے بیمار کی جان آئی ہے
بتایا جاتا ہے کہ اٹھارہویں صدی کے وسط میں نواب شجاع خان سدوزئی ملتان کا صوبے دار تھا۔ انہی دنوں حاجی شریف نامی ایک شخص نے کسی طرح دربارِ کابل سے اپنے نام پر صوبے داری کا پروانہ جاری کر لیا اور نواب کے ساتھ معمولی مقابلے کے بعد قلعہ ملتان پر قابض ہو گیا۔ اگرچہ شجاع خان کی حکومت شجاع آباد تک محدود ہو کر رہ گئی لیکن وہ دن رات اپنی شکست کا بدلہ لینے کی راہیں تلاش کرتا رہتا تھا۔ اسی دوران علاقے کے ایک ہندو ساہوکار نے جس کا نام دھرم جس تھا‘ کسی کام سے احمد شاہ ابدائی کے پاس کابل جانے کا پروگرام بنایا۔ شجاع خان نے اس سے درخواست کی کہ وہ بادشاہ کی منت سماجت کر کے اسے ملتان کی صوبہ داری پر بحال کرا دے۔ تاہم دھرم جس نے یہ پروانہ شجاع خان کے بجائے اپنے نام پر جاری کرا لیا۔
کابل میں اس کا کچھ کام باقی تھا لہٰذا اس نے عجلت میں شریف بیگ تکلو نامی ایک شخص کو جو دربارِ شاہی میں معمولی ملازم تھا‘ اپنا نائب بنا کر ملتان روانہ کر دیا۔ تکلو فوراً ہندوستان پہنچا اور ’تاریخ ملتان‘ کے مؤلف سید عباس حسین گردیزی کے بیان کے مطابق شجاع آباد سے ہوتا ہوا سوداگروں کے ایک قافلے کے ہمراہ پاک دروازہ سے شہر داخل ہوا اور پھر بے کھٹکے قلعہ کا رُخ کیا۔ کچہری دربار کے پاس پہنچ کر شاہی فرمان سر پر رکھا اور بڑی چارپائی پر جم کر بیٹھ گیا۔ حاجی شریف نے حجال نامی حجام کو اس کے پاس بھیجا۔ اس نے آ کر پورا ماجرا بیان کیا کہ یہ صحیح ہے‘ کوئی اور صوبے دار ہو کر آ گیا ہے۔ صوبے دار کے تمام عمال اس کے گرد جمع ہیں اور یہ رائے دی ’’اب آپ کا یہاں رہنا مناسب نہیں‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ناموزوں بات رونما ہو جائے۔‘‘ چنانچہ حاجی شریف نے اسی حالت میں محل کے پچھواڑے سے اپنا راستہ لیا اور تکلو نے بڑی سہولت سے نظامت کا کاروبار سنبھال لیا۔
شریف بیگ تکلو بہت چست اور چالاک نکلا۔ زمامِ اختیار سنبھالتے ہی اس نے نظم و نسق پر قابو حاصل کر لیا۔ چند دن بعد دھرم جس نے کاروبار سے فارغ ہو کر دارالسلطنت کابل سے ملتان کا عزم کیا اور قریب پہنچ کر تکلو کو پیغام بھیجا کہ دریائے چناب کے کنارے آ کر اس کا استقبال کرے۔ تکلو اس حکم سے اتنا برا فروختہ ہوا کہ بغاوت پر کمر باندھ لی چنانچہ وہ شہر چھوڑ کر قلعہ بند ہو گیا۔ نتیجتاً قلعہ کے باہر کی فوج نے دھرم جس کی اطاعت کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی قلعہ بند اور محاصرہ کرنے والی فوجوں میں لڑائی چھڑ گئی اور کئی دن تک جنگ کے شعلے بھڑکتے رہے۔ آخرایک دن عین اس وقت جب کہ دھرم جس اپنے پڑاؤ کی چھت پر کھڑا شملہ باندھ رہا تھا‘ اندرونِ قلعہ کے ایک سپاہی کی گولی کا نشانہ بن گیا۔ تکلو کی فوج میں شادیانے بجنے لگے اور وہ خود پالکی میں بیٹھ کر بزرگان دین کے آستانوں کی زیارت سے شرف یاب ہونے چلا گیا۔ اس کے بعد دادو دہش کا بازار گرم ہوا۔ اب تکلو بادشاہ سے بھی منحرف ہو چکا تھا چنانچہ اس نے بغاوت کر دی اور ملک پر اپنا اقتدار قائم رکھا۔ نیز بادشاہ کے قہروعتاب سے بچنے کی یہ صورت نکالی کہ سکھوں کو اپنی مدد کے لیے طلب کیا۔
لیکن سکھوں کی آمد سے پہلے ہی بادشاہ کو تمام حالات کی اطلاع مل گئی تھی چنانچہ اس نے بہادر خان درانی کی سرکردگی میں ایک جرار لشکر کو کوچ کا حکم دیا۔ تکلو کو جب تادیبی کارروائی کا علم ہوا تو پھر قلعہ بند ہو گیا۔ بہادر خاں نے بھی پہنچتے ہی شہر کا محاصرہ کر لیا۔ برابر کی چوٹیں چلیں۔ بالآخر باہر کی فوجوں نے نقب لگا کر شہر پناہ کی ایک دیوار ڈھیر کر دی۔ دیوار کا گرنا تھا کہ بہادر خانی سپاہ شہر میں گھُس آئی اور اس بری طرح لوٹ مچائی کہ کسی کے پاس ایک کوڑی تک نہ رہی البتہ قلعے کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکا۔ بس اتنی کارروائی کے بعد بہادر خان واپس چلا گیا۔ بہادر خان کے واپس ہوتے ہی تکلو نے سکھوں کو پھر بلابھیجا۔ چنانچہ گنڈاسنگھ کی قیادت میں اس کی فوجیں آدھمکیں۔ شہر کے باہر ڈیرے ڈال دئے اور تکلوکو یہ پیغام بھیجا کہ شہر کا ایک دروازہ ہمارے سپرد کر دیا جائے جس کا تعلق ہم ہی سے رہے۔ تکلو نے سکھوں کی یہ فرمائش مسترد کر دی۔ سکھوں نے اس بارے میں کئی اور تہدیدی پیغامات ارسال کیے۔ آخر دیوان شہر نے وعدہ کر لیا کہ عید کے دن تکلو نماز ادا کرنے بیرونی عیدگاہ جائے گا اس موقع پر داخلے کی اجازت دے دوں گا۔ غرض عید کے دن جب تکلو نے عیدگاہ کا رُخ کیا‘ حسب وعدہ دیوان نے سکھوں کو قلعے پر قابض کروا دیا۔ تکلو اس حادثے سے بہت اندوہ گیں ہوا اور عیدگاہ سے سوار ہو کر عام وخاص باغ میں خیمے نصب کروا دیے۔ بالآخر پیامیوں کے ذریعہ یہ طے پایا کہ تمام ملک‘ شہر اور قلعہ سکھوں کا اور صرف تلمبہ کا پرگنہ تکلو کی جاگیر! اس تصفیہ کے بعد تکلو نے تلمبہ میں جاکر سکونت اختیار کر لی۔ ایک قلعہ بھی بنوایا جو آج بھی موجود ہے۔
میں نے تو اپنے ذہن میں اس قلعے کے متعلق نہ جانے کیا نقشہ بنا رکھا تھا لیکن جب تلمبہ شہر کے مرکزی علاقے میں پہنچ کر انجم فاروق نے قدرے قدیم زمانے کے ایک دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ’’یہ ہے وہ قلعہ!‘‘ تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ مجھے اتنا تو اندازہ تھا کہ تلمبہ کا قلعہ لاہور یا رہتاس کے قلعوں جتنا رفیع الشان نہیں ہو گا لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس قلعے کی ان قلعوں کے ساتھ دُور کی نسبت بھی نہیں ہو گی۔
’’اچھا! تو یہ ہے وہ قلعہ جو شریف تکلو نے تعمیر کیا تھا۔‘‘ میں نے قدرے تاسف سے کہا ’’لیکن سچ پوچھیں تو مجھے اس میں قلعوں والی کوئی بات نظر نہیں آ رہی۔‘‘
’’اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو‘‘ انجم فاروق نے جواباً کہا ’’کہ وہ قلعے جن کی دور دور تک شہرت ہے‘ بادشاہانِ وقت کے خزانہ عامرہ سے تعمیر ہوئے۔ انہیں آج بھی سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور محکمہ آثار قدیمہ ان کی بحالی کے لیے اپنی سی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔ یہ قلعہ ملتان سے اپنی جان بچا کر بھاگ نکلنے والے ایک معمولی صوبے دار نے محدود مقاصد کے لیے تعمیر کیا تھا۔ اندازے کے مطابق گزشتہ سوا دو سو سال میں یعنی جب سے یہ قلعہ تعمیر ہوا ہے‘ اس کی مرمت کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں ہوئی۔ رہی سہی کسر ناجائز قابضین نے پوری کر دی جنہوں نے اس کے ساتھ غریب کی جورو والا سلوک روا رکھا۔ ابھی میں آپ کو قلعے کے گرد چکر لگواؤں گا تو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ لوگوں نے اسے برباد کرنے کے لیے اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔‘‘
’’تاریخِ سرزمین خانیوال‘‘ میں اس قلعے کے متعلق معلومات ملتی ہیں ان کے مطابق بوقت تحریر کتاب مذکورہ فصیل کی بلندی اٹھائیس فٹ تھی جس میں سے پہلے سترہ فٹ تک اس کی چوڑائی پانچ فٹ اور باقی ماندہ دیوار کی چوڑائی صرف ڈیڑھ فٹ تھی۔ فصیل میں بارہ برج تھے‘ ہر دو برجوں کے درمیان پچانوے فٹ کا فاصلہ تھا اور ہر برج میں دشمن پر حملہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مورچے بنے ہوئے تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو صورت حال یکسر بدل چکی تھی۔ اب اس کے اکثر برج صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ فصیل کا کچھ حصہ تو قائم ہے جب کہ کئی مقامات پر لوگوں نے اسے گرا کر مکانات تعمیر کر لیے ہیں۔ قلعے کا مرکزی دروازہ کواڑوں سے محروم ہو چکا ہے۔ قلعے کے اندر کئی سرکاری محکموں نے اپنے اپنے دفاتر بنا رکھے ہیں اور سرکاری سطح پر اس قلعے کی بحالی کا بادی النظر میں کوئی پروگرام نہیں۔ معلوم نہیں اپنی اصل شکل میں یہ فصیل کتنی بلند تھی لیکن اب اس کی اونچائی اٹھائیس فٹ سے زیادہ نہیں۔ کہیں کہیں اس کی نیم دلانہ مرمت کے آثار بھی ملتے ہیں۔
ہم نے قلعہ اور اس کی نواحی آبادی پر اچٹتی نگاہ ڈالی اور پھر وہ مقام دیکھنے چل دیے جہاں تلمبہ کا قدیم شہر آباد تھا۔لیکن اب اس کی حیثیت مٹی کے ایک پہاڑ سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ سچ بتا دے دلِ مرحوم کا قصہ کیا ہے
کہا جاتا ہے‘ تلمبہ کا قدیم شہر جو ابتداً اپنے آبادکار‘ راجہ کنب کے نام پر ’کنب‘ یا ’کنبہ‘ کہلاتا تھا اور پھر ’سالاکا‘ کے نام سے بھی مشہور رہا‘ دریائے راوی کا رُخ تبدیل ہونے یا کسی نامعلوم وجہ سے اجڑ گیا۔ اس آبادی کے وسیع و عریض کھنڈروں موجودہ تلمبہ سے باہر اب بھی موجود ہیں۔ کننگھم اور اس کے بعد ایک پاکستانی ماہر آثارِقدیمہ‘ ڈاکٹر محمد رفیق مغل نے ان کھنڈروں کی کھدائی کر کے اس علاقے کی تاریخ اور یہاں آباد لوگوں کے بارے میں بعض حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں۔
ان کھنڈروں سے برآمد ہونے والی اشیا میں ٹوٹی پھوٹی مردانہ و زنانہ مورتیاں‘ گھوڑوں‘ بیلوں اور ہاتھیوں کے بت‘ مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے سکے‘ خام اور پختہ دیواریں‘ منقش فرشوں کے کچھ ٹکڑے‘ کوئلہ‘ راکھ‘ نکاسیٔ آب کی نالیاں‘ مٹی کے تنور‘ نقش و نگار والے مرتبان اور دیگر برتن‘ آٹا پیسنے کی چکیان‘ مٹی کے پہیے‘ بشمول زیورات سونے‘ چاندی‘ کانسی‘ تانبے اور لوہے کی بنی ہوئی مختلف النوع اشیا‘ نیم قیمتی پتھروں اور مٹی کے مٹکے اور بہت سی دیگر چیزیں شامل ہیں۔ ان نوادرات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس شہر کے باسی حددرجہ تہذیب یافتہ تھے۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کی تحقیق کے مطابق اس شہر کے جنوب میں ایک مضبوط قلعہ تھا جس کی بیرونی فصیل دو سو فٹ بلند تھی۔ اندرونی فصیل اس سے کچھ ہی کم اونچی تھی۔ ہر دو فصیلوں کے اندر سو فٹ چوڑی خندق تھی۔ اندرونی قلعہ کی دیواریں کم و بیش چالیس فٹ بلند تھیں۔ اس قلعے کے مرکز میں تقریباً اتنا ہی بلند ایک برج تھا جس سے تمام علاقے پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔
اپنی موجودہ شکل میں کھنڈروں کا یہ وسیع و عریض مجموعہ فاعتبروایا ولی الابصار۔ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے۔ وہ عظیم الشان شہر جس پر سکندر سے لے کر تیمور تک جیسے فاتحین کی نظریں رہیں‘ آج مٹی کے ایک بہت بڑے ڈھیر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
میں نے سن رکھا تھا کہ ان کھنڈروں میں ایک غار کسی شیر کی پناہ گاہ رہی ہے۔ چنانچہ جب میں نے انجم فاروق سے یہ کچھار دکھانے کی درخواست کی تو وہ مجھے وہاں لے جانے کے لیے فوراً تیار ہو گئے۔ جب ہم کھنڈروں کے قریب پہنچے تو محمد ارشد نامی ایک شخص اتفاقاً ہمیں مل گیا۔ ’’تمہیں شیروالی غار کا پتا ہے؟‘‘ ہم نے اس سے سوال کیا۔
’’میں تو ان کھنڈروں کے چپے چپے سے واقف ہوں۔ میں آپ کو ابھی وہاں لے چلتا ہوں‘‘ اس نے جواب دیا ’’دراصل میں آجڑی ﴿گڈریا﴾ ہوں۔ مجھے آتے جاتے ان کھنڈروں کے بیچ میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک بار میری ایک بکری اچانک غائب ہو گئی۔ میں نے اسے بہت ڈھونڈا لیکن وہ نہ ملی۔ پھر مجھے خیال آیا کہ وہ اس غار کے اندر نہ چلی گئی ہو۔ چنانچہ میں ہمت کر کے اس کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔‘‘ ’’اندر تو گھپ اندھیرا ہو گا؟‘‘
’’جی مکمل تاریکی تھی۔ غار اتنی تنگ تھی کہ میں کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ بہرحال اکڑوں بیٹھ کر تقریباً رینگتا ہوا کوئی پچاس ساٹھ فٹ اندر گیا ہوں گا کہ مجھے بکری کے منمنانے کی آواز آئی۔ میں نے قدم بڑھا کر اسے پکڑا تو معلوم ہوا کہ وہ اینٹوں کی ایک دیوار کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ میں نے اُسے کان سے پکڑا اور کھینچ کر باہر لے آیا۔‘‘ ’’تمہیں خوف تو نہیں آیا؟‘‘
’’میں گھبرایا ہوا تو تھا لیکن اگر بکری نہ ملتی تو میرا بہت نقصان ہو جاتا۔ میرا روزگار جو یہی ہوا۔ خدا کا شکر ہے‘ اندر کسی جانور نے مجھے نہیں پکڑا اور نہ کسی کیڑے مکوڑے نے کاٹا۔‘‘ ’’ہو سکتا ہے جس دیوار کی تم بات کر رہے ہو‘ اس کے پیچھے کوئی خزانہ ہو۔‘‘
’’مجھے کیا پتا جی؟ اس وقت تو مجھے اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اس لیے جوں ہی بکری میرے ہاتھ آئی میں نے کلمہ شکر پڑھا اور باہر نکل آیا۔‘‘ ہم اتنی دیر میں غار کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔ ارشد کہنے لگا: ’’چھوڑیں جی خزانے کو یہ بتائیں کہ آپ یہ غار اندر سے دیکھنا چاہیں گے؟‘‘ ’’نہیں یار‘ تم نے خود ہی ساری تفصیل بتا دی ہے۔ اس کے بعد اندر دیکھنے والی کون سی چیز رہ گئی ہے۔‘‘
’’ایسی ایک غار اور بھی ہے۔‘‘
’’وہ بھی دکھا دو۔ ہم نے کون سا باربار یہاں آنا ہے۔‘‘
کچھ ہی دیر میں ہم اسی طرح کی ایک اور غار کے دہانے پر کھڑے تھے۔ واپسی کے دوران ہم نے اس جیسی ایک دو مزید غاریں دیکھیں تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ غاریں دراصل وہ سرنگیں ہیں جو آثارِقدیمہ والوں نے ان کھنڈروں پر تحقیق کے دوران کھودی ہوں گی لیکن بعد میں جنگلی جانوروں کی پناہ گاہیں بن گئیں۔ ’’تم نے ہمیں غار تو دکھا دی لیکن یہ نہیں بتایا کہ تم نے خود بھی یہاں کوئی شیر دیکھا ہے؟‘‘ انجم فاروق نے پوچھا۔ ’’توبہ کریں جی‘ ہو سکتا ہے کسی زمانے میں کوئی شیر یہاں رہتا ہو۔ اب تو ہر طرف گیدڑ ہی نظر آتے ہیں۔‘‘ ارشد نے جواباً کہا۔ ’’اس بھڑ کے بارے میں کوئی اور بات سناؤ۔‘‘
’’بھڑ کے بارے میں یوں تو کئی کہانیاں مشہور ہیں لیکن ان کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔‘‘ ’’پھر بھی!‘‘
’’کہتے ہیں اس بھڑ ﴿ویران جگہ﴾ میں ایک ریچھ رہا کرتا تھا۔ رات کے وقت وہ باہر نکلتا اور شکار کی تلاش میں کبھی کبھار انسانی آبادیوں کا رُخ بھی کر لیتا۔ کسی گاؤں میں ایک بہت خوبصورت لڑکی رہتی تھی۔ ریچھ کی نظر پڑی تو اس پر عاشق ہو گیا۔ لڑکی کے والدین کو ریچھ کی حرکتوں سے اس کی نیت پر شک ہو گیا چنانچہ انہوں نے لڑکی کی حفاظت کے لیے خاص اہتمام کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن ریچھ موقع پا کر اسے اٹھا کر اپنی کچھار میں لے گیا۔ لڑکی کے لواحقین کو سخت تشویش ہوئی‘ وہ ہتھیار لے کر اس کے پیچھے پیچھے پہنچ گئے۔ جب ریچھ بے خبری میں باہر نکلا تو انہوں نے یک بارگی اس پر حملہ کر کے مار ڈالا۔‘‘ ’’اس لڑکی کا کیا ہوا؟‘‘
’’بعد میں وہ لڑکی بازیاب ہو گئی لیکن اس کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔ اس زمانے میں علاج معالجے کی سہولتیں بھی میسر نہ تھیں چنانچہ وہ کچھ ہی دیر بعد اللہ کو پیاری ہو گئی۔‘‘ راستے میں ہمیں سکول سے واپس جاتے ہوئے کچھ بچے مل گئے۔ ان کے گاؤں کا راستہ ان ہی کھنڈروں میں سے ہو کر جاتا تھا۔ ’’تم نے کبھی یہاں کوئی جنگلی جانور دیکھا ہے؟‘‘ میں نے ان سے پوچھا۔ ’’کبھی کبھار سانپ‘ سیہ یا گیدڑ نظر آ جاتا ہے اور بس۔‘‘
’’یہ بچے بھی ٹھیک کہتے ہیں‘‘ اب ارشد ہم سے مخاطب تھا ’’لیکن میں نے اپنے والد سے سن رکھا ہے کہ اس بھڑ میں ایک بہت بڑا اژدھا رہا کرتا تھا۔ اتنا موٹا اور لمبا کہ آپ تصور بھی نہ کر سکیں۔‘‘ ’’تم نے یہ اژدھا خود دیکھا ہے؟‘‘
’’نہیں۔ لیکن والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ یہ اژدھا نہیں بلکہ درویش ہے جو جمعرات کی جمعرات ماموں شیر کو سلام کرنے جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اب یہ اژدھا مستقل طور پر وہیں رہتا ہے۔‘‘ ’’ماموںشیر!‘‘ میرے لیے یہ نام بالکل نیا تھا اس لیے میں نے قدرے حیرت سے اس کے منہ کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’وہ کون ہیں؟‘‘ ’’کمال ہے‘ آپ نے ان کا نام نہیں سنا۔ وہ تو علاقے کے مانے ہوئے بزرگ ہیں۔‘‘ انجم فاروق نے کہا۔
’’اژدھا ان کی خانقاہ کے پاس واقع قبرستان میں رہتا ہے۔‘‘ ارشد نے ہماری معلومات میں مزید اضافہ کیا۔
’’میں اپنے بچپن میں ایک بار یہاں آیا تھا۔ تب سے دوبار حاضری کی خواہش رہی لیکن اس طرح کبھی آنا ہی نہیں ہوا‘‘ انجم فاروق نے کہا ’’کیوں نہ آج وہاں سے بھی ہو آئیں۔‘‘ ’’کیوں نہیں۔ آپ کے ساتھ میں بھی ان کے مزار پر فاتحہ خوانی کر لوں گا۔‘‘
ماموں شیر کا مزار ان کھنڈروں کے قریب ہی واقع ہے اور پختہ سڑک وہاں تک جاتی ہے۔ چنانچہ ہم بغیر کسی تکلیف کے منٹوں میں وہاں پہنچ گئے۔ ۱۸۴۹ئ میں انگریزوں نے تلمبہ پر قبضہ کر لیا۔ اب ہزاروں برس پر محیط تاریخ میں پہلی مرتبہ اس علاقے میں تلمبہ کی مرکزیت ختم کر کے اسے تحصیل سرائے سدھو کے ماتحت کر دیا گیا۔ یہ تو تھی تلمبہ کی اجمالی تاریخ۔ کتب تاریخ میں ان تمام واقعات کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ تاہم قارئین کی دلچسپی کے مدنظر چند واقعات کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ ۱۳۰۷۔۸ئ میں تاتاریوں اور سلطان علاؤالدین کے لشکر کے مابین تلمبہ میں خونریز جنگ ہوئی۔ ’تاریخ فیروزشاہی‘ مؤلفہ ضیائ الدین برنی کے اردو مترجم ڈاکٹر سید معین الحق کے الفاظ میں ’’اس مرتبہ لشکر اسلام کا امیر علی واہن کی سرکردگی میں تاتاری لشکر سے تلمبہ میں مقابلہ ہوا۔ لشکر اسلام کو فتح ہوئی‘ تاتاری سردار‘ اقبال مند مارا گیا اور کئی ہزار مغل تہِ تیغ ہوئے۔ تاتاریوں کے جو امیران زندہ گرفتار ہوئے ان کو دہلی لایا گیا اور وہ ہاتھیوں کے پیروں کے نیچے کچلوا دیے گئے۔ اس لڑائی میں ایک مغل بھی زندہ واپس نہ جا سکا۔‘‘ بیان کیا جاتا ہے کہ فیروز تغلق شکار کا بہت شوقین تھا۔ ’تاریخ فیروزشاہی‘ کا مصنف کہتا ہے ’’اگر میں فیروز شاہ السلطان کے شکار کھیلنے‘ اس کے شکار کی اقسام اور شکار سے شغف کا حال لکھنا شروع کروں اور چاہوں کہ بیان تفصیل کے ساتھ کروں تو مجھے ﴿علٰحدہ﴾ شکارنامہ فیروز شاہی لکھنا چاہیے. ہم نے شکار کی مداومت اور اس کے طور طریقے جیسے سلطان عالم پناہ فیروزشاہ کے دیکھے ہیں‘ ایسے دہلی کسی بادشاہ کے نہیں ہوئے۔‘‘ ۱۰۰۱ئ میں سلطان محمود غزنوی نے تلمبہ پر قبضہ کیا۔ ۱۲۱۸ئ کے بعد تلمبہ تاتاریوں کے مسلسل حملوں کا نشانہ بنتا رہا۔ ۱۲۳۹ئ میں رضیہ سلطانہ اپنے حریفوں کے خلاف مدد حاصل کرنے کے لیے تلمبہ اور جھنگ کے علاقے میں آئی۔ ۱۳۰۸ئ میں شاہی افواج نے اسی شہر میں تاتاریوں سے فیصلہ کن جنگ کی اور وہ شکست فاش سے دوچار ہوئے۔ ۱۳۳۴ئ میں مشہورِ عالم سیاح ابن بطوطہ دہلی جاتے ہوئے ریاست تلمبہ کی حدود سے گزرا جس کا احوال اس نے اپنے سفر نامہ میں قلم بند کیا ہے۔ سلطان فیروز شاہ تغلق نے اپنے دورِحکومت میں یہاں فیروز چھاؤنی بنوائی جسے زمانہ ۱۳۹۸ئ میں امیرتیمورلنگ نے تلمبہ پر حملہ کر کے اُسے تباہ و برباد کر ڈالا۔ ۱۴۳۱ئ میں امیرکابل‘ شیخ علی نے تلمبہ کو بہت بری طرح پامال کیا اور ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: