Home > Entertainment, Multan, Pakistan, Punjab, Tourism, Urdu > ماموں شیر

ماموں شیر


بتایاجاتا ہے کہ حضرت ماموںشیر(رح) کا اصل نام شیرشاہ تھا۔ وہ سیدعلی ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے ماموں تھے۔ اسی لیے ماموں شیر کے لقب سے مشہور ہوئے۔ وہ داتا گنج بخش(رح) کے ساتھ ہی ترکِ وطن کر کے لاہور آئے تھے۔ یہاں پہنچ کر داتا گنج بخش(رح) نے تو زبان و قلم کو ذریعہ تبلیغ بنایا‘ لیکن ماموں شیرتلوار کے دھنی تھے اور اس کی مدد سے کفروشرک کے خلاف جہاد کرنا چاہتے تھے۔ مشرکینِ ہند کے ساتھ پھر کئی معرکے ہوئے۔ لالہ حکم چند کے بیان کے مطابق ایسی ہی ایک لڑائی میں آپ لاہور میں شہید ہوئے‘ لیکن سربریدہ کیفیت ہی میں گھوڑے پر سوار میرپور کہنہ چلے آئے۔ وہ ایک کنوئیں پر اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کھڑے ہوئے۔ گاؤں کی عورتیں پانی بھرنے آئی ہوئی تھیں۔ ایک سربریدہ شخص کو گھوڑے پر سوار دیکھ کر ٹھٹھہ کرنے لگیں۔ ماموں شیر(رح) نے ناراض ہو کر بددعا دی جس کے نتیجے میں یہ بستی تباہ ہو گئی اور آپ بھی اسی جگہ غائب ہو گئے۔ ’تاریخ سرزمین خانیوال‘ کے مصنف نے اس واقعہ میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماموں شیر(رح) زخمی حالت میں یہاں پہنچے تھے۔ عورتوں کے تمسخر پر اُن کی بددعا سے وہ مقام تباہ ہو گیا۔ اس کے فوراً بعد آپ کی بھی وفات ہو گئی۔
کہا جاتا ہے کہ آپ کا مزار حاکم وقت نے تعمیر کرایا تھا۔ اس مزار میں کوئی قابل بیان تعمیراتی خوبی نہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ایک سادہ سی گنبددار عمارت میں دو قبریں ہیں۔ آپ کے ساتھ غالباً آپ کے صاحبزادے‘ محمودشاہ بخاری(رح) محوِخواب ہیں۔ مزار کے ماتھے پر ایک بورڈ آویزاں ہے جس پر مدفونین کی شان میں دو بے وزن اشعار درج ہیں۔
مدتِ نامعلوم سے ہر سال چیت کی بیس تاریخ کو آپ کا عرس منایا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخری ربع میں بھی یہ ایک بڑا میلہ ہوتا تھا۔ لالہ حکم چند کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ’چار پانچ ہزار آدمی جمع ہو جاتے. تیس پینتیس دکاناتِ حلوائیاں‘ دو تین دکان بزازان اور چند دکان بسطیاں لگتی ہیں۔‘‘ وہ مزار پر نقد و جنس کی شکل میں پیش کیے جانے والے چڑھاووں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’دکاندار ایک ایک پیسہ نقد اور میٹھی شیرینی مجاوروں کو دیتے ہیں۔‘‘
جب ہم وہاں پہنچے تو مزار پر زائرین کا بے پناہ ہجوم تھا. اتنا کہ مزار کی طرف بڑھتے ہوئے ہمارے قدم خودبخود رک گئے۔ بالآخر ہمیں کسی سے پوچھنا پڑا کہ کیا وہ دن صرف زائرات کے لیے تو مخصوص نہیں تھا؟ اس اطمینان کے بعد کہ یہ معمول کی بات ہے‘ ہم ہجوم چیرتے ہوئے بمشکل مزار کے اندر داخل ہو کر فاتحہ خوانی کر سکے۔
اکثر مزارات کی طرح اس مزار پر بھی دعا کرنے والے کم لیکن نذرنیاز میں سے اپنا حصہ وصول کرنے والے بہت تھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کوئی شخص مٹھی بھر مکھانے وہاں اکٹھے ہو جانے والے بچوں کی طرف پھینکتا تو ان کے ایک ایک دانے پر بیک وقت کئی کئی بچے ٹوٹ پڑتے۔ لیکن دانہ کسی قسمت والے کے ہاتھ ہی آتا۔ بسا اوقات تو دانہ جھپٹا مارنے والے کسی بچے کے پاؤں تلے آکر مسلا جاتا‘ لیکن بچے اسے کب چھوڑنے والے تھے‘ وہ اس کا چورہ بھی اٹھا کر ہڑپ کر جاتے۔
عورتیں مزار کی چوکھٹ کو فرطِ عقیدت سے چوم رہی تھیں۔ ڈھول والے نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا۔ صحن مزار کے دروازے پر ہارمونیم پر بیٹھا قوال اپنی دیہاڑی لگانے کے چکر میں تھا۔ ہم نے قوال سے ماموں شیر کی مدح میں دوچار چیدہ چیدہ اشعار سنانے کی فرمائش کی۔ وہ بے چارہ شاید کسی ایسے ہی موقع کا منتظر تھا لیکن ڈھول والے نے اس کی ایک نہ چلنے دی۔ وہ اتنی زور سے ڈھول پیٹ رہا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
اس دھماچوکڑی کے باعث ہمارے لیے وہاں زیادہ دیر ٹھہرنا ممکن نہ تھا لہٰذا ہم جلد ہی میاںچنوں واپس آ گئے۔ میرے ہمراہی‘ انجم فاروق تو وہیں رک گئے البتہ میں اپنے ایک اور دوست‘ کرامت کے ساتھ کچا کھوہ کے راستے عبدالحکیم جا نکلا۔
اس قصبے کی آبادکاری اسی نام کے ایک بزرگ کی مرہونِ منت ہے۔ ان کے مزارِ پُرانوار پر بھی ہر وقت عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے۔
تاجدارِصفیا عبدالحکیم
روایت کے مطابق میاں عبدالحکیم(رح) کے والد غلام علی پارچہ شوئی اور رنگ ریزی کا کام کرتے تھے۔ وہ اپنے زمانے کے ولیٔ کامل‘ حاجی رحمت اللہ کے پارچہ جات بھی دھویا کرتے تھے۔ جب کبھی غلام علی دھلے ہوئے پارچہ جات حاجی رحمت اللہ کو لوٹانے جاتے تو وہ اٹھ کر ان سے ملتے۔ ایک بار ان کے عقیدت مندوں میں سے کسی نے ان کے اس طرزِعمل پر تعجب کا اظہار کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ موصوف کے ہاں ایسا فرزند پیدا ہوتا دیکھ رہے ہیں جو مقامِ ولایت پر فائز ہو گا لہٰذا وہ انہیں بے حد احترام کا مستحق سمجھتے ہیں۔
’مرقع ملتان‘ کے مصنف سید محمد اولاد علی گیلانی نے میاں عبدالحکیم(رح) کے حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے ایک روایت بھی نقل کی ہے۔ اس کے مطابق آپ کی پیدائش کے وقت کچھ حجاج کرام آپ کے والد بزرگوار کے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے ایک لوٹا‘ جائے نماز اور تسبیح پیش کرتے ہوئے یہ وضاحت کی وہ یہ سب چیزیں ’بموجبِ بشارت‘ نومولود کے لیے مکہ معظمہ سے تحفتاً لائے ہیں۔ میاں عبدالحکیم(رح) بچپن ہی سے دنیاوی امور سے لاتعلق سے رہتے تھے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد تو گویا عبادت و ریاضت میں منہمک ہو کر رہ گئے۔ آپ کے والد بوڑھے ہو گئے تھے۔ ان کے لیے اپنا ذریعہ معاش جاری رکھنا مشکل ہو رہا تھا لیکن ان کے پرانے گاہک کسی اور دھوبی یا رنگ ریز کے پاس جانے کو تیار نہ ہوتے۔ جب وہ زیادہ ضعیف ہو گئے اور وعدے کے مطابق لوگوں کو ان کے پارچہ جات نہ لوٹا سکتے تو وہ شکوہ کرتے۔ آپ کے والد یہی کہتے کہ ان کی صحت اب اس کام کی اجازت نہیں دیتی لیکن وہ بیٹے کی عدم دلچسپی کے باعث تنہا یہ کام کرنے پر مجبور ہیں‘ لہٰذا بسا اوقات پارچہ جات وعدے کے مطابق لوٹا نہیں پاتے۔ سعادت مند بیٹے نے ایک بار یہ بات سن لی تو اپنے والد بزرگوار سے پوچھا‘ انہوں نے کتنے لوگوں کے کپڑے لوٹانے ہیں؟ ضعیف باپ نے بتایا کہ پانچ سو کپڑے مختلف رنگوں میں رنگنے ہیں۔ میاں عبدالحکیم نے یہ سب کپڑے ایک ہی بار پانی میں ڈال دیے۔ خدا کی شان دیکھیے‘ جو پارچہ باہر نکالا جاتا وہ حسبِ منشا رنگا ہوا ہوتا۔ آپ کے والد بزرگوار نے یہ منظر دیکھا تو دل سے اپنے بیٹے کے مقامِ روحانی کے قائل ہو گئے اور دنیا سے ان کی بے رغبتی کے متعلق اپنے تمام گلے شکوے بھلا دیے۔
کہا جاتا ہے کہ پہلے آپ کی رہائش لبِ دریائے بیاس تھی۔ پھر موضع ملکا میں آ گئے۔ وہاں سے اُٹھ کر دریائے راوی کے کنارے آئے اور پھر چک سراجہ میں آکر آباد ہو گئے۔ قصبہ عبدالحکیم آپ ہی کے نام پر آباد ہوا۔
میاں عبدالحکیم(رح) ڈاکٹر ستار کے گھر کے قریب ایک بلندوبالا قبے کے نیچے دفن ہیں۔ قبے کے اندر ادنیٰ قسم کے نقش و نگار ہیں۔ موصوف کے ساتھ ہی ان کے صاحبزادے‘ عبدالخالق دفن ہیں۔ دونوں قبریں جو ایک ساتھ جڑی ہوئی ہیں‘ ایک اطلسی چادر سے ڈھکی رہتی ہیں۔
مزار پر آویزاں تختیوں میں سے ایک پر آپ کی یہ کرامت بطورِ خاص درج ہے کہ اس دور کے ہندوستانی بادشاہ نے دلی میں ایک مسجد بنوائی مگر بعد میں پتا چلا کہ اس کا رخ درست نہیں۔ یہ صورت حال بادشاہ کے علم میں لائی گئی تو وہ بہت پریشان ہوا۔ آخرکار صلاح یہ ٹھہری کہ کسی صاحب کمال سے رجوع کیا جائے۔
دہلی کے اندر ایک مجذوب رہتے تھے۔ انہوں نے میاں عبدالحکیم(رح) سے رابطے کا مشورہ دیا چنانچہ بادشاہ نے عبدالوہاب نامی ایک شخص کو آپ کے پاس بھجوایا۔ آپ اس کی بات سن کر اُٹھے‘ ایک کپڑا دھو کر نچوڑا اور فرمایا کہ مسجد سیدھی ہو چکی ہے۔ روایت کے مطابق عبدالوہاب نے کپڑا نچوڑنے کا وقت نوٹ کر لیا اور دلی پہنچ کر معلوم کیا تو تصدیق ہو گئی کہ عین اُسی وقت مسجد کی سمت خودبخود درست ہو گئی تھی۔ دوسری تختی پر ڈاکٹر سید اقبال حیدربخاری کا میاں عبدالحکیم کی شان میں منظوم نذرانہ عقیدت آویزاں ہے۔
مزار کے صدر دروازے پر اطلاع عام کے طور پر یہ تحریر درج تھی ’’ہڈی کی گولی دربار شریف پر ملتی ہے۔‘‘ مجھے اس گولی کے بارے میں تجسس ہوا میاں عبدالحکیم(رح) کے ایک خلیفہ‘ عبدالخالق نے بتایا ’’یہ سلطان عبدالحکیم(رح) کی خاص دین اور ہر اس شخص کے لیے سودمند ہے جس کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو۔‘‘ اور پھر وضاحت کی ’’یہ گولی ہڈی کے اپنی جگہ بیٹھ جانے کے بعد جوڑ کی پختگی کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔ اس کے تین دن استعمال سے ہڈی بفضلہ تعالیٰ پورے طور پر جُڑ جاتی ہے۔‘‘
’’گولی کا آپ کچھ نذرانہ بھی وصول کرتے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’صرف تیس روپے۔ یہ رقم بھی ہم کسی ذاتی مصرف میں نہیں لاتے بلکہ شہر کی ایک مسجد کو دے دیتے ہیں۔‘‘
موضع بغداد میں
بتایا جاتا ہے کہ شاہ حبیب اللہ(رح)‘ سید فتح اللہ شاہ(رح) کے بیٹے تھے۔ وہ سید عبدالقادر جیلانی کی اولاد میں سے اور بغداد شریف کے رہنے والے تھے۔ سید فتح اللہ شاہ(رح) اپنے وطن میں صاحب کرامات مشہور تھے۔ شاہ حبیب(رح) نے ابتدائی تعلیم و تربیت ان ہی سے حاصل کی جس کے بعد سید عبدالقادر جیلانی(رح) کے مزار پر بارہ سال کا طویل عرصہ چلہ کشی میں گزارا۔ تب انہیں حکم ہوا کہ وہ ہندوستان کے اس علاقے میں بغداد کے نام سے ایک نیا موضع آباد کریں اور اسی میں رہائش رکھیں تاکہ جو لوگ بوجہ دوری عراق کے شہر بغداد نہیں آ سکتے‘ شاہ حبیب(رح) کے پاس حاضر ہو کر اُسی درجہ ثواب حاصل کر سکیں۔ انہوں نے اس حکم کی فوری تعمیل کر دی۔
یہاں آنے کے بعد انہوں نے طویل عرصہ گوشہ تنہائی میں گزارا جس کے بعد ان کی شہرت دورونزدیک تک پھیل گئی۔ لوگ بکثرت ان کے پاس حاضر ہونے لگے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب شاہ حبیب یہاں تشریف لائے تو یہ علاقہ ایک رئیس‘ لشکر خان کی عملداری میں تھا۔ اس نے انہیں یہاں رہنے کی اجازت نہ دی۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ان ہی دنوں اس کا ایک بیٹا اتنا شدید بیمار ہو گیا کہ اس کی جان کے لالے پڑ گئے۔ کسی نے اسے شاہ حبیب سے دعا کی درخواست کرنے کو کہا۔ یہ دعا قبول ہوئی اور بیٹے کو گویا نئی زندگی نصیب ہو گئی۔ یوں وہ آپ کا مرید ہو گیا اور اس نے یہ پورا گاؤں آپ کی نذر کر دیا۔ مشہور ہے‘ حضرت سلطان باہو(رح) بیعت کرنے آپ ہی کے پاس حاضر ہوئے تھے مگر آپ نے انہیں سید عبدالرحمن سے رابطے کا مشورہ دیا۔ مصنف ’تاریخ سرزمین خانیوال‘ کے الفاظ میں ’’لاجونتی راما کرشنا نے اپنی کتاب ’پنجابی شاعراں دا تذکرہ‘ میں لکھا ہے کہ یہی شاہ حبیب اللہ(رح)‘ سلطان باہو(رح) کے مرشد تھے۔‘‘ آپ کی ایک مشہور کرامت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک سوداگر نے اعلیٰ نسل کی ایک گھوڑی شاہجہان کی خدمت میں پیش کی۔ بادشاہ نے اسے بہت پسند کیا اور افسر خزانہ کو حکم دیا کہ گھوڑی کی قیمت کے طور پر ایک خطیر رقم سوداگر کو ادا کر دی جائے۔ اس بددیانت اہلکار نے ادائیگی میں لیت و لعل سے کام لیا اور بالآخر اسے حیلے بہانے سے شہر بدر کر دیا۔ وہ بیچارہ قسمت کا مارا کئی لوگوں کے پاس گیا تاکہ اس اہلکار سے اپنی رقم وصول کرنے کے لیے مدد حاصل کر سکے لیکن اس کی مراد کہیں بر نہ آئی۔
ایک ہمدرد کے مشورے پر اس نے شاہ حبیب(رح) کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا بیان کیا۔ وہ سوداگر کی بپتا سن کر مضطرب ہو گئے۔ انہوں نے اسی رات سوئے ہوئے شاہجہان کو اس کی چارپائی سمیت بغداد میں حاضر کر لیا۔ جب وہ شاہ حبیب(رح) کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوا تو انہوں نے اس کی سخت فہمائش کی۔ اس نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا اور رقم کی فوری ادائی کا وعدہ کر لیا بشرطیکہ سوداگر اس کے دربار میں حاضر ہو جائے۔ جب سوداگر نے طوالتِ سفر کا رونا رویا تو شاہ حبیب(رح) نے اس پر مہربانی کرتے ہوئے اسے چارپائی کا پایہ پکڑ کر آنکھیں بند کرنے کا حکم دیا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ شاہجہان کے ساتھ ہی دہلی پہنچ چکا تھا۔
شاہ حبیب(رح) موضع بغداد ہی میں ایک بلندوبالا قبے کے نیچے دفن ہیں جس کے اندر ادنیٰ قسم کے نقش و نگار ہیں۔ قبر مزار کے وسط میں لکڑی کی ایک ضریح کے اندر ہے۔ اردگرد کچھ اور لوگ دفن ہیں۔ مزار کی دیوار پر سید محمد ظفر نامی ایک شاعر ﴿جو خود کو ’’سگ درگاہِ حبیب‘ کہلانا پسند کرتے ہیں﴾ کی طرف سے صاحب مزار کی شان میں پنجابی زبان میں ایک نظم آویزاں کی گئی ہے۔ اس کا پہلا شعر ہے: ایہ دوارہ حبیب گیلانی دا‘ جتھے نور دی پئی برسات ہوندی
وسے چھم چھم رحمت رب دی پئی‘ بھانویں دن ہوندا بھانویں رات ہوندی
میں اپنے دوستوں کرامت اور اسلم کے ساتھ شاہ حبیب(رح) کے مزار پر فاتحہ کے بعد باہر نکل رہا تھا کہ ناگاہ ہماری نظر صحنِ مزار میں ایک چٹائی پر بیٹھی دو خواتین پر پڑ گئی۔ ان کے قریب ہی ایک جاں بلب نوجوان عالمِ بے چارگی میں الگ چٹائی پر لیٹا تھا۔ مجھے تعجب ہوا کہ یہ لوگ اس بے سروسامانی کے عالم میں یہاں کیوں بیٹھے ہیں۔ چنانچہ میں نے ان سے سوال کیا کہ وہ کہاں سے آئے اور یہاں کیا کر رہے تھے؟
’’ہم سندھیلیاں والی سے ہیں‘‘ ایک خاتون نے جواب دیا ’’یہ بچہ جس کا نام وارث ہے میرا بیٹا ہے۔ اچھا بھلا تھا لیکن نہ جانے کیوں دنوں میں سوکھ کر کانٹا ہو گیا۔ ہم نے اسے کئی ڈاکٹروں کو دکھایا۔ وہ کہتے ہیں کہ اسے پٹھوں کی کوئی ایسی بیماری ہے جس کا ان کے پاس علاج نہیں۔ ہم کچھ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جن کے ایسے ہی نحیف و نزار مریض اس درگاہ کی برکت سے بالکل ٹھیک ہو گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی ہم بھی وارث کو یہاں لے آئے۔ آپ دعا کریں اللہ ہماری مشکل کاٹ دے اور یہ بچہ کسی طرح ٹھیک ہو جائے۔‘‘ ہم حسب فرمائش دعا مانگ کر باہر نکل آئے۔
ایک زمانے میں اس گاؤں کے نٹ اپنے کمالِ فن کی وجہ سے پورے پنجاب میں مشہور تھے۔ وہ موسیقی‘ گلوکاری‘ ڈرامہ اور جگت بازی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے اور میلوں ٹھیلوں میں خوب رنگ جماتے۔ میں نے کسی کتاب میں پڑھ رکھا تھا کہ شاہ حبیب کے ایک عرس کے موقع پر ان دنوں کا حاکم ملتان‘ دیوان ساون مل بھی یہاں آیا تھا۔ نٹوں کو دیوان ساون مل کی آمد کا پتا چلا تو وہ بھی آ پہنچے اور جگت بازی کرنے لگے۔ اسی دوران آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے۔ اچانک بادل زور سے گرجا تو نٹوں کے ہاتھ ایک نیا موضوع آ گیا۔ انہوں نے فی البدیہہ یہ اشعار سنا کر محفل پر سناٹا طاری کر دیا:
لکھ لعنت ہے ساون نوں
گجے تے کڑھکے لوکاں دے سناون نوں
گھر وِچ بھکھ تے باہر لوگ رجاون نوں
لکھ لعنت ہے ساون نوں
دیوان نے ان اشعار میں چھپا طنز محسوس تو کر لیا لیکن موقع کی نزاکت کے پیش نظر کسی سخت ردعمل کے اظہار سے اجتناب کیا بلکہ الٹا نٹوں کو انعام و کرام سے نواز کر اس واقعے کو خوبصورت موڑ دے دیا۔ جب اس حوالے سے مزار کے دیرینہ خادم‘ نذیر سے بات ہوئی تو اس نے بتایا ’’ہاں! میں نے بھی اپنے بزرگوں سے یہ واقعہ سن رکھا ہے۔ اگرچہ میرے علم کے مطابق اس کی جزیات قدرے مختلف ہیں۔‘‘
اب ہماری منزل سیتا کنڈ تھی۔ سیتا کنڈ سے مراد کیا ہے‘ یہ جاننے کے لیے آپ کو چند لمحے انتظار کرنا ہو گا۔
وقت کیا بدلا کہ بدلے رنگ سارے
ہندو روایات کے مطابق رام چندرجی اور ان کی بیوی سیتا اپنے بن باس کے زمانے میں تیرتھ یاترا کرتے ہوئے ایک بار اس علاقے میں آئے تھے۔ اس مقام پر جسے بعد میں سیتا کنڈ کہا جانے لگا‘ رام چندرجی دریا میں داخل ہوئے اور اشنان کرتے ہوئے اس مقام تک جا پہنچے جس کے لیے اب رام چوترہ کا نام مستعمل ہے۔ رام چندر جی کی واپسی تک سیتا جی اسی مقام پر بیٹھی رہیں۔ بعد کے کسی زمانے میں اس جگہ جہاں سیتاجی بیٹھی تھیں‘ ایک مندر بنا دیا گیا۔
لالہ حکم چند اپنی کتاب ’تواریخ ملتان‘ میں رقم طراز ہیں کہ دریائے راوی یہاں سے لے کر رام چوترہ تک کا فاصلہ تقریباً خط مستقیم میں طے کرتا ہے۔ ہندو اسے رام چندر جی کی کرامت گردانتے ہیں جب کہ مسلمان اس حقیقت کی اور توجیہہ پیش کرتے ہیں۔ فاضل مصنف کے الفاظ میں ’ہندو بیان کرتے ہیں کہ جب رام چندر جی سیتا کنڈ پر کپڑے اتار کر اشنان کرتے ہوئے متصل رام چوترہ کے آئے تو پھر کر سیتا کی طرف دیکھا۔ ان کے دیکھنے سے دریا سیدھا ہو گیا تاکہ رام چندر جی کی نگاہ سیتا تک بآسانی پڑ سکے۔ مسلمانوں کا قول ہے کہ پہلے دریائے راوی اس جگہ سے بے ٹکا نہ بہتا تھا۔ ادھر ادھر پانی پھیل جاتا۔ ہمایوں بادشاہ نے حسب درخواست زمینداران سیتا کنڈ سے رام چوترہ تک نہر بصرف شاہی کھود کر دریا کو اس میں جاری کیا اور کنارے پر واسطے مضبوطی کے درخت بکثرت لگوائے۔‘‘
ہندوؤں یا مسلمانوں کے دعویٰ کی تفصیل میں جائے بغیر یہی عرض ہے کہ سیتا کنڈ کے مقامی لوگ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں ان دو مقامات کے درمیان واقع دریا کا حصہ واقعی سیدھا ہے اور اس کے اطراف میں کھجور‘ بوہڑ اور شیشم کے درخت بکثرت ہیں۔
میں‘ کرامت اور اسلم یہی منظر دیکھنے سیتا کنڈ پہنچے۔ لیکن سچ پوچھیں تو جوڑیاں پل سے ڈیری اور پھر وہاں سے سیتا کنڈ کا تقریباً تین کلو میٹر طویل راستہ بالکل کچا اور کیچڑ سے اٹا پڑا تھا۔ ہم کار میں سفر کر رہے تھے جب کہ حقیقتاً اس سفر کے لیے کوئی جیب ہی موزوں تھی۔ لیکن اللہ بھلا کرے ہمارے ڈرائیور لیاقت علی کا کہ وہ خدا کے فضل اور اپنی مہارت کے بل بوتے پر گاڑی کو اس خطرناک راستے سے بھی بہ آرام نکال لے گیا۔
سیتا کنڈ کے قریب پہنچے تو ہماری ملاقات محمد نواز سے ہوئی جو اپنے جانوروں کے لیے چارہ کاٹ رہا تھا۔ اس نے کام چھوڑ کر ہمارا استقبال کیا اور ہمارے ایک سوال کے جواب میں بتایا: ’’آپ بالکل صحیح جگہ پر پہنچے ہیں۔ وہ جگہ جسے سیتا کنڈ کہا جاتا ہے‘ بوہڑ کے اس درخت کے نیچے ہے۔‘‘
فی الوقت وہاں پر ایک خستہ حال کمرے کے علاوہ کوئی چیز نہیں۔ ’’یہی تو وہ مندر ہے‘‘ نواز نے بتایا جو ہمارے ساتھ ہی چل پڑا تھا ’’اس کے گرد چاردیواری ہوا کرتی تھی جس میں ایک کنواں‘ تالاب اور پجاری کا مکان ہوا کرتا تھا۔ میں تو قیام پاکستان کے وقت بہت چھوٹا تھا اس لیے کہہ نہیں سکتا کہ مندر اندر سے کیسا تھا۔ لیکن چار دیواری‘ کنواں‘ تالاب اور کوارٹر تو میرا دیکھا بھالا ہے۔ یہ سب چیزیں آہستہ آہستہ ختم ہوئی ہیں۔ چونکہ ہمارے لیے کوئی اہمیت نہ رکھتی تھیں لہٰذا کسی نے اِن کی پروا نہ کی۔

  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: