Home > Event, Independence Day, Pictures > 14th August, Independence Day of Pakistan

14th August, Independence Day of Pakistan



اسلام وعلیکم ! دوستو،

جشنِ آزادی کے اس پر مسرت موقع پر ایک چھوٹا سا منا سا تحفہ  جو  منسلک ہے
اس فائل کو ڈاؤن لوڈ کرکے unzip کرلیں اور منددرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں۔

1۔ Control Panel

اوپن کریں۔
2- وہاں Mouse

کی آپشن کو

double کلک کریں۔


3- Pointers

کو سلیکٹ کریں


4- Brows کر کے

unzip

کی ہوئی فائل کو سلیکٹ کر لیں۔


5۔ پہلے

Apply اور پھر

OK کا بٹن دبائیں۔

اپکا تحفہ اپکو Mouse Pointer کے ساتھ لہراتا ہوا ملے گا۔

Attached Files
File Type: zip PAKISTAN.zip


Name:  h-p.jpg Views: 13 Size:  89.8 KB

Name:  d-w.jpg Views: 15 Size:  32.7 KB

Name:  sep1.gif Views: 27 Size:  185.0 KB

Name:  sep2.gif Views: 27 Size:  76.6 KB

Name:  enigmalarge2.JPG Views: 11 Size:  111.6 KB



Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers

Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers

Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers The Arabian Sea is Pakistan’s southern boundary with 1,064 km of coastline. The country has total area of 803,940 sq km with a land area of 778,720 sq km and is nearly four times the size of United Kingdom. From Gwadar Bay in it’s south-eastern corner, the country extends more than 1,800 km to the Khunjerab Pass on China’s border. Pakistan comprises four provinces – Punjab, Sindh, North West Frontier and Balochistan – and the Federally Administrated Tribal Area.

Name:  sigi-HG-ilAli.gif Views: 24 Size:  20.7 KB


Name:  vq64g7.gif Views: 24 Size:  67.7 KB

Name:  19.jpg Views: 18 Size:  30.1 KB



ITDarasgah.com - Urdu Forum for IT Education & Information


Name:  Pakistan_wall.jpg Views: 47 Size:  41.9 KB

Aug 13, 2009 Pakistan

Click on following images to download the wallpapers

//


Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers


































Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers




















Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers

Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers

Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers

Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers

Pakistan Independence Day Light of Freedom  Wallpapers

Pakistan Independence Day Wallpapers


Pakistan Independence Day Wallpapers


Pakistan Independence Day Wallpapers


Pakistan Independence Day Wallpapers


Pakistan Independence Day Wallpapers


Pakistan Independence Day Wallpapers


Pakistan Independence Day Wallpapers


Pakistan Independence Day Wallpapers


Pakistan Independence Day Wallpapers


Right click to set as wallpaper


14th August Wallpaper

Pakistan Independence Day Wallpaper



Click here to download

[size=large]Brief history of national anthem of Pakistan[/size]

The National Anthem of Pakistan approved by the Government in August 1954, is a harmonious rendering of a three-stanza composition with a tune based on eastern music but arranged in such a manner that it can be easily played by foreign bands. The Anthem is evocative in spirit, extolling Pakistan as the centre of faith and freedom, a land of beauty and strength drawn from the people and the country. The words touch upon the various facts of national life, with an invocation for integrity of Pakistan. The Verses of the Anthem have been composed by a renowned poet of Pakistan, Abul Asar Hafeez Jullundhri; while the tune has been composed by Ahmed G. Chagla, the well known musician and composer






The Starting Of 14th August Pics


Name:  trana.jpg Views: 134 Size:  37.9 KB

Name:  Jeshn-i-Azade Mubarak (ITD).jpg Views: 81 Size:  143.7 KB

Name:  Jeshn-i-Azade Mubarak01(ITD).jpg Views: 77 Size:  112.5 KB

Name:  14.JPG Views: 125 Size:  43.6 KB





<!–[if gt IE 6]> Parades Banner with photo of marching band marching in a summer parade <![endif]–>

Parades Banner with photo of marching band marching in a summer parade


2009-06-29-image010.jpg2009-06-29-Pakistan.jpg2009-06-29-GD4312108Pakistanigirlshold5244.jpg




Aysi zameen aur aasmaan inn key siwa jaana kahaan..
Barhti rahey yeh roshni chalta rahey yeh karwaan..

Dil Dil Pakistan..
Jan Jan Pakistan..
Dil Dil Pakistan..
Jan Jan Pakistan..Dil

Dil dil sey miltey hein to pyaar ka chehra banta hai…
chehra banta hai..
Phool ik lari mein piroyen to phir sehra banta hai…
chehra banta hai..

Dil Dil Pakistan..
Jan Jan Pakistan..
Dil Dil Pakistan..
Jan Jan Pakistan..

Aysi zameen aur aasmaan inn key siwa jaana kahaan..
Barhti rahey yey roshni chalta rahey yey karwaan..

Dil Dil Pakistan..
Jan Jan Pakistan..
Dil Dil Pakistan..

Ghar apna to sab ko jee jaan sey pyara lagta hai…
tara lagta hai..
Ham ko bhi apney har armaan sey pyara lagta hai…
tara lagta hai..

Dil Dil Pakistan..
Jan Jan Pakistan..
Dil Dil Pakistan..
Jan Jan Pakistan..
Dil Dil Pakistan..
Jan Jan Pakistan..
Dil Dil Pakistan..
Jan Jan Pakistan..Dil




Name:  it darasgah.png Views: 47 Size:  451.1 KB
Name:  thread.jpg Views: 18 Size:  122.7 KB
http://www.itdarasgah.com/attachment.php?attachmentid=3611&d=1250606814
Name:  14-ag.jpg Views: 22 Size:  27.2 KB
Name:  651y78.jpg Views: 29 Size:  52.3 KB

Khwaab maratay nahii.n

Khwaab dil hai.n, na aa.Nkhe.n, na saa.Nse.n ke jo
rezaa, rezaa huwe to bikhar jaaye.nge
jism kii maut se ye bhii mar jaaye.nge

Khwaab maratay nahii.n
Khwaab to raushanii hai.n, navaa hai.n, havaa hai.n
jo kaalay pahaa.Do.n se rukatay nahii.n
zulm kii dozaKho.n se bhii phukatay nahii.n
raushanii aur navaa aur havaa ke aalam
maqtalo.n me.n pahu.Nch kar bhii jhukatay nahii.n

Khwaab to harf hai.n
Khwaab to nuur hai.n
Khwaab suqraat hai.n
Khwaab mansuur hai.n

khuwab dekhiye apney mulk k liye aur unhey pora kijiye

ALLAH HAMAREY PAKISTAAN KO APNEY HIFZ-O-AMAAN MAIN RAKHEY

AMEEN


کہاں ہے قائد اعظم کا پاکستان ؟؟

کابینہ کا اجلاس جاری تھا، اے ڈی سی نے پوچھا “سر! اجلاس میں چائے سرو کی جائے یا کافی؟” چونک کر سر اٹھایا اور سخت لہجے میں فرمایا “یہ لوگ گھروں سے چائے کافی پی کر نہیں آئیں گے”، اے ڈی سی گھبرا گیا، آپ نے بات جاری رکھی “جس وزیر نے چائے کافی پینی ہو گھر سے پی کر آئے یا پھر گھر واپس جا کر پئے، قوم کا پیسہ قوم کے لئے ہے وزیروں کے لئے نہیں”۔ اس حکم کے بعد جب تک وہ برسرِاقتدا ر رہے، کابینہ کے اجلاسات میں سادہ پانی کے سوا کچھ سرو نہ کیا گیا۔

گورنر جنرل ہاؤس کے لئے ساڑھے اڑتیس (38.5) روپے کا سامان خریدا گیا، آپ نے حساب منگوا لیا، کچھ چیزیں محترمہ فاطمہ جناح نے منگوائی تھیں، حکم دیا “یہ پیسے ان کے اکاؤنٹ سے کاٹے جائیں” باقی چیزیں گورنر جنرل ہاؤس کے لئے تھیں، فرمایا “ٹھیک ہے یہ رقم سرکاری خزانے سے ادا کر دی جائے لیکن آئندہ احتیاط کی جائے”۔

برطانوی شاہ کا بھائی ڈیوک آف گلوسٹر پاکستان کے دورے پر آ رہا تھا، برطانوی سفیر نے درخواست کی “آپ اسے ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہہ دیں” ہنس کر کہا “میں تیار ہوں لیکن جب میرا بھائی لندن جائے گا تو پھر برٹش کنگ کو بھی اس کے استقبال کے لئے ایئرپورٹ آنا پڑے گا”۔

ایک روز اے ڈی سی نے ایک وزٹنگ کارڈ سامنے رکھا، آپ نے کارڈ پھاڑ کر پھینک دیا اور فرمایا “اسے کہو آئندہ مجھے شکل نہ دکھائے”۔ یہ شخص آپ کا بھائی تھا اور اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنے کارڈ پر اپنے نام کے نیچے “برادر آف قائد اعظم محمد علی جناح، گورنر جنرل پاکستان” لکھوا دیا تھا۔

زیارت میں*سردی پڑ رہی تھی، کرنل الٰہی بخش نے نئے موزے پیش کر دیے، دیکھے تو بہت پسند فرمائے، قیمت پوچھی، بتایا گیا “دو روپے” گھبرا کر بولے “کرنل یہ تو بہت مہنگے ہیں” عرض کیا “یہ آپ کے اکاؤنٹ سے خریدے گئے ہیں، فرمایا “میرا اکاؤنٹ بھی قوم کی امانت ہے، ایک غریب ملک کے سربراہ کو اتنا عیّاش نہیں ہونا چاہئے”، موزے لپیٹے اور کرنل الٰہی بخش کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

زیارت ہی میں ایک نرس کی خدمت سے بہت متاثر ہوئے اور اس سے پوچھا “بیٹی میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں؟” نرس نے عرض کیا “سر! میں پنجاب سےہوں، میرا سارا خاندان پنجاب میں ہے، میں اکیلی کوئٹہ میں نوکری کر رہی ہوں، آپ میرا تبادلہ پنجاب کرا دیں”، اداس لہجے میں جواب دیا “سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں”۔

اپنے طیارے میں رائٹنگ ٹیبل لگوانے کا حکم دیا، فائل وزارتِ خزانہ پہنچی تو وزیرِ خزانہ نے اجازت تو دے دی لیکن یہ نوٹ لکھ دیا “گورنر جنرل اس قسم کے احکامات جاری کرنے سے قبل وزارتِ خزانہ سے اجازت کے پابند ہیں”، آپ کو معلوم ہوا تو وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔

ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لئے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا “اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟”

جب آپ گورنر جنرل ہاؤس سے نکلتے تھے تو آپ کے ساتھ پولیس کی صرف ایک گاڑی ہوتی تھی جس میں صرف ایک انسپکٹر ہوتا تھا اور وہ بھی غیر مسلم تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب گاندھی قتل ہو چکے تھے اور آپ کی جان کو سخت خطرہ تھا اور اس خطرے کے باوجود آپ بغیر سیکیورٹی کے کھلی ہوا میں سیر کرتے تھے۔

یہ تھا آج سے ساٹھ (60) برس پہلے کا پاکستان، وہ پاکستان جس کے سربراہ محمد علی جناح تھے۔

لیکن پھر ہم ترقی کرتے کرتے اس پاکستان میں آ گئے، جس میں پھاٹک تو ایک طرف رہے سربراہِ مملکت کے آنے سے ایک گھنٹہ قبل سڑکوں کے تمام سگنل بند کر دئے جاتے ہیں، دونوں اطراف ٹریفک روک دی جاتی ہے اور جب تک شاہی سواری نہیں گزرتی، ٹریفک کھلتی ہے اور نہ ہی اشارے۔

جس میں سربراہِ مملکت وزارت خزانہ کی اجازت کے بغیر جلسوں میں پانچ پانچ کروڑ روپے کا اعلان کر دیتے ہیں، وزارت خزانہ کے انکار کے باوجود رائٹنگ ٹیبل تو کجا پورے پورے جہاز خرید لئے جاتے ہیں۔

جس میں صدور اور وزرائے اعظم کے احکامات پر سینکڑوں لوگ بھرتی کئے جاتے ہیں، اتنے ہی لوگ نوکریوں سے برخواست کیے جاتے ہیں*اور ان سے کہیں زیادہ تبادلے عمل میں آتے ہیں اور کتنوں کو ہی قوانین و ضوابط بالائے طاق رکھ کر ترقیوں سے نوازا جاتا ہے۔

جس میں موزے تو رہے ایک طرف، بچوں کے پوتڑے تک سرکاری خزانے سے خریدے جاتے ہیں۔

جس میں ساڑھے اڑتیس (38.5) روپوں کی کیا وقعت؟ آج ایوانِ صدر کا ساڑھے اٹھارہ (18.5) اور وزیرِ اعظم ہاؤس کا بجٹ بیس (20) کروڑ روپے ہے۔

جس میں کارڈ پر بھائی کا نام لکھوانے کی کسی کو ضرورت ہی نہیں کہ ایوانِ اقتدار میں عملاً باپوں، خاوندوں، بھائیوں، بہنوں، بہنوئیوں، بھتیجوں اور بھانجوں کا راج رہا ہے، جس میں وزیر اعظم ہاؤس سے سیکرٹریوں کو فون کیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا “میں*صاحب کا بہنوئی بول رہا ہوں”۔

جس میں انگلستان کے ڈیوک آف گلوسٹر تو بہت دور امریکہ کے صرف نائب وزیر کے استقبال کے لئے پوری کی پوری حکومت ایئر پورٹ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔

جس میں چائے اور کافی کی بجائے کابینہ کے اجلاس میں مکمل لنچ اور مکمل ڈنر سرو کیا جاتا ہے اور جس میں ایوانِ صدر اور وزیر اعظم ہاؤس کے باورچی خانے ہر سال کروڑوں روپے دھواں بنا دیتے ہیں۔

جس میں سربراہِ مملکت جدید ترین بلٹ پروف گاڑیوں، ماہر سیکیورٹی عملہ اور انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز کے بغیر دس کلو میٹر کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے۔

ہم اس ملک میں مساوات رائج نہیں کر سکے، اسے ایک بھی خوددار، با وقار اور ایماندار قیادت نہیں دے سکے، ہم اسے جدید، ترقی یافتہ اور پر امن ملک نہیں*بنا سکے تو نہ سہی۔۔۔
لیکن شاید ہم اسے واپس 1948 تک بھی نہیں لے جا سکتے، ہم اسے 62 برس پرانا پاکستان بھی نہیں بنا سکتے۔

کوئی ہے جو ہم سے یہ ترقی، خوشحالی اور یہ عروج لے لے اور ہمیں ہمارا پسماندہ، غریب اور غیر ترقی یافتہ پاکستان واپس کر دے، جو ہمیں قائد اعظم کا پاکستان واپس کر دے کہ اس ملک کے 16 کروڑ عوام کو 2009 کی بجائے 1948 کا پاکستان چاہئے۔


Name:  azadi.jpg Views: 13 Size:  133.1 KB

Name:  l.jpg Views: 6 Size:  109.3 KB

Pakistan's independence celebrations start with a bang

  1. September 1, 2010 at 7:07 pm

    hi there hows it going

  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: